جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 293 of 502

جنگ مقدّس — Page 293

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۹۱ جنگ مقدس ۲۶ تباہ نہیں ہو گا ۔ یہ ایک بڑے درخت کی طرح ہو جائے گا اور پھیل جائے گا اور اس میں بادشاہ ہونگے اور جیسا کہ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطة 12 میں اشارہ ہے اور پھر فصاحت بلاغت کے بارہ میں فرمایا بِلِسَانِ عَرَبِيٌّ مُّبِينِ ا اور پھر اس کی نظیر مانگی اور کہا کہ اگرتم کچھ کر سکتے ہاس کی نظیر دو ۔ پس عربی مبین کے لفظ سے فصاحت بلاغت کے سوا اور کیا معنی ہو سکتے ہیں؟ خاص کر جب ایک شخص کہے کہ میں یہ تقریر ایسی زبان میں کرتا ہوں کہ تم اس کی نظیر پیش کرو ۔ تو بجز اس کے کیا سمجھا جائے گا کہ وہ کمال بلاغت کا مدعی ہے اور مبین کا لفظ بھی اسی کو چاہتا ہے ۔ بالآخر چونکہ ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب قرآن شریف کے معجزات سے عمداً منکر ہیں اور اس کی پیشگوئی سے بھی انکاری ہیں اور مجھ سے بھی اسی مجلس میں تین بیمار پیش کر کے ٹھٹھا کیا گیا کہ اگر دین اسلام سچا ہے اور تم فی الحقیقت ملہم ہو تو ان تینوں کو اچھے کر کے دکھلاؤ حالانکہ میرا یہ دعوئی نہ تھا کہ میں قادر مطلق ہوں نہ قرآن شریف کے مطابق مواخذہ تھا ۔ بلکہ یہ تو عیسائی صاحبوں کے ایمان کی نشانی انجیل میں ٹھہرائی گئی تھی کہ اگر وہ بچے ایماندار ہوں تو وہ ضرور لنگڑوں اور اندھوں اور بہروں کو اچھا کریں گے مگر تا ہم میں اس کے لئے دعا کرتا رہا۔ اور آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب کہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اُس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے الفتح : ٢٣٠ الشعراء : ١٩٦