جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 502

جنگ مقدّس — Page 288

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۸۶ جنگ مقدس ۱۳۔ کیوں جناب آپ ہماری نظیر بے نظیری اور بے حدی کو باطل کس طرح ٹھہرا سکتے ہیں جو ایک واقعہ مصر ہے اور کیا ان دونوں صفات کی ایک ہی ماہیت نہیں کیونکہ بے نظیر مطلق بے حدی سے ۱۸۴ علیحدہ نہیں ہو سکتا زمان اور مکان ان ہر دو کا ایک ہی رہتا ہے ۔ جناب غور فرما کر جواب دیں۔ ۱۴۔ جب ثبوت دکھلاویں گے کہ قرآن میں معجزہ ہیں اور قرآن خود ہی ایک معجزہ ہے تو ہم مان لیں گے لیکن کسی شخص نے ایک بادشاہ کے سامنے ایک لطیفہ کہا تھا کہ سات رومال لپیٹے ہوئے کھول کر رکھ دیئے ۔ اور کہا کہ جناب اس میں نور ظہور کی پگڑی ہے مگر وہ حرام کے کو نظر نہیں آتی ۔ الا حلال کے کو نظر آتی ہے۔ ایسا ہی اگر جناب کا فرمانا ہے کہ اگر ہم کو وہ معجزات نہ نظر آویں تو ہماری نظر کا قصور ہے تو ہم کو ایک گالی کھا لینا منظور ہے مگر جھوٹا اقرار کر لینا منظور نہیں ۔ شق القمر کے معجزہ کی بابت میں جناب کو معلوم نہیں کہ شق القمر ہونا مستلزم ساتھ قرب قیامت کے ہے اور آگے اس کے صیغہ ان تیروا مضارع کا ہے اور اس معجزہ سے پہلے سے تحدی یا تعارض کسی کے نہیں ہوئی۔ پس ایسی نظیر میں جناب دے کر کس کو اطمینان بخشیں گے ۔ سوتو معلوم ۔ البتہ پیشین گوئیاں قرآن میں بہت سی ہیں لیکن پیشین گوئیاں دو قسم کی ہیں ایک وہ پیشین گوئی جو علم الہی سے ہوتی ہیں اور دوسری وہ جو عقل عامہ سے ہوتی ہیں ۔ جو علم الہی کا انحصار کرے۔ اس کی نظیر اگر جناب پیش کریں گے ہم اس پر غور کریں گے اور روم کے فارس سے مغلوب ہونے کی پیشین گوئی دوراندیشی عقل عامہ کی ہے (آگے بولنے نہ دیا کہ وقت پورا ہو گیا ) دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان غلام قادر فصیح پر میز پینٹ از جانب اہل اسلام مضمون آخری حضرت مرزا صاحب (۵/جون ۱۸۹۳ء) آج یہ میرا آخری پرچہ ہے جو میں ڈپٹی صاحب کے جواب میں لکھا تا ہوں مگر مجھے بہت افسوس ہے کہ جن شرائط کے ساتھ یہ بحث شروع کی گئی تھی ان شرائط کا ڈ پٹی صاحب نے ذرا پاس نہیں فرمایا۔ شرط ی تھی کہ جیسے میں اپنا ہر ایک دعوئی اور ہر ایک دلیل قرآن شریف کے معقولی دلائل سے پیش کرتا گیا ہوں