جنگ مقدّس — Page 287
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۸۵ جنگ مقدس کے مجاز میں ہوتا ہے۔ جیسا رکابی پلاؤ کا کھانا ہر ایک سمجھتا ہے کہ بھری ہوئی رکابی میں سے کچھ نہ (۱۸۳) چھوڑنا یا جیسے کہتے ہیں کہ پتا لے چل رہے ہیں یا یہ کنواں میٹھا یا کھارا ہے۔ یہ بھی ایسے محاورات ہیں جو عامہ ہیں۔ اور سبا کی ملکہ جو زمین کے کنارہ سے آئی اس کے معنی صاف ظاہر ہیں کہ دوسرے ملک کے کنارے سے آئی جو فلسطین کے دوسری طرف تھا۔ اس میں جغرافیہ اور علم ہندسہ کا کیا علاقہ ہے یہ نظیریں جناب کے دلدل کی ندی غروب کے لئے پیدا نہیں کر سکیں گے۔ زمین کا ساکن ہونا بھی بد و نظر ہے اور عوام اس سے سوا نہیں بولتے اور کلام الہی عوام کے لئے ہے۔ و ۔ جناب نے آئس لینڈ اور گرین لینڈ کے دنوں کی کیا اچھی تعبیر فرمائی ہے اور وہ نظیر جو حمل کی اس میں دی ہے اس سے بھی بڑھ کر ہے مجھے حیرانی یہ ہے کہ کلام نص کو آپ چھوڑ کر کہاں جا پڑتے ہیں۔ قرآن کے کلام نص میں یہ لکھا ہے کہ دن کی سفیدی کی دھاری سے پہلے شروع کر کے شام کی سیاہی کی دھاری کے پیچھے روزہ افطار کرنا چاہیے کہ جن دونوں دھاریوں کا ان ملکوں میں نشان تک کچھ نہیں اور حمل کی بابت جو آپ نے نظیر دی ہے وہ زمانہ متعینہ ہمارا ہے نہ کسی کلام الہی کا۔ ۱۰۔ جناب فرماتے ہیں کہ گوڈنس کوئی صفت نہیں تب جب ایک شخص جو کسی مواخذہ میں گرفتار نہیں وہ کسی خوش سلوکی کے لائق بھی نہیں ہے۔ رحم کی اصطلاح صاف یہ ظاہر کرتی ہے کہ کسی مواخذہ میں گرفتار ہے جس کو رحم سے چھوڑایا جاتا ہے۔ آپ کا اختیار ہے جتنا چاہیں ضد فرما دیں مگر یہ امور بدیہی ہیں ۔ ا۔ یہ ایک عجیب روک ہے کہ جو ایک امر بدیہی نالائق ہو اس کو نا لائق نہ کہا جائے کیا اگر ہم فرض کر لیویں کہ خدا نے کوئی ظلم کیا یا جھوٹ بولا تو اسی لحاظ سے یہ فرض خدا کی بابت میں ہے کہ ہم نالائقی اس کی کا ذکر نہ کریں گے۔ ہم تو ان افعالوں کو نا لائق کہیں گے اور مفروضہ خدا کو جھوٹا خدا کہیں گے یہ تو ہم ایک امر واقعی دیکھتے ہیں کہ گوشت حیوانوں کا خدا تعالیٰ نے انسانوں کے واسطے کلام الہی میں مباح کر دیا ہے اور بعض بعض جانوروں کو بھی جیسا کہ شیر یا باز ہے فطرت نے مباح کر دیا ہے لیکن ایک واقعہ مرئی سے اس کا عدل نامرئی مٹ نہیں سکتا۔ کوئی وجہ اس کے صادق ٹھہرانے کی ہوگی جو ہم کو نا معلوم ہو تو اس نا معلومی سے اس کی نفی نہیں ہو سکتی۔ ۱۲ مجسم ہونے سے جسم کو بھی الوہیت ٹھہر انا جناب کی اصطلاح ہوگی ہمارے تو یہ معنی ہیں کہ مجسم ہونے سے مظہریت پر ایما ہے۔