جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 502

جنگ مقدّس — Page 280

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۷۸ جنگ مقدس (۱۷۸) ع ۔ انسان فعل مختار ہے۔ العـ غ۔ اگر اس کے یہ معنے ہیں کہ جس حد تک اس کو قومی بخشے گئے ہیں اس حد تک وہ اس قومی کے استعمال کا اختیار رکھتا ہے تو یہ قرآنی تعلیم کے مخالف نہیں۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ أعْطَى كُلِّ شَيْ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى لا یعنی وہ خدا جس نے ہر چیز کو اس کے مناسب حال قومی اور جوارح بخشے اور پھر ان کو استعمال میں لانے کی توفیق دی۔ ایسا ہی فرماتا ہے: گل يَعْمَلُ عَلى شَاكِلَتِه ها یعنی ہر ایک اپنے قومی اور اشکال کے موافق عمل کرنے کی توفیق دیا جاتا ہے اور اگر کچھ اور معنے ہیں تو آپ کو خوشگوارر ہیں ۔ ع۔ کیا خدائے تعالیٰ مالکیت کے برقعہ میں نا جائز کاموں کی اجازت دے سکتا ہے۔ غ نالائق مت کہیے جو کچھ اس نے کیا اور کر رہا ہے وہ سب لائق ہے ۔ صحیفہ قدرت کو دیکھئے کہ وہ کروڑہا پرند اور چرند اور دوسرے جانوروں کی نسبت کیا کر رہا ہے اور اس کی عادت حیوانات کی نسبت کیا ثابت ہوتی ہے اگر غور سے آپ دیکھیں گے تو آپ اقرار کریں گے کہ وضع اس دنیا کی اسی طرح پائی جاتی ہے کہ خدائے تعالیٰ نے ہر ایک حیوان کو انسان پر قربان کر رکھا ہے اور اس کے منافع کے لئے بنایا ہے۔ ع۔ کلام مجسم ہوا۔ غ ۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضرت مسیح کا جسم بھی خدا تھا۔ لیجیے حضرت یک نہ شد دو شد۔ ع۔ اقنوم کے معنی شخص معین میں سو یہ تین جدا جدا شخص اور ماہیت ایک ہے اب قائم فی نفسہ اور ابن اور روح القدس اس میں لازم و ملزوم ہیں۔ غ ۔ جبکہ یہ تینوں شخص اور تینوں کامل اور تینوں میں ارادہ کرنے کی صفت موجود ہے۔ اب ارادہ کرنے والا ابن ارادہ کرنے والا روح القدس ارادہ کرنے والا ۔ تو پھر ہمیں سمجھاؤ کہ با وجود اس حقیقی تفریق کے اتحاد ماہیت کیونکر اور نظیر بے حدی اور بے نظیری کی اس مقام سے کچھ تعلق نہیں رکھتی کیونکہ وہاں حقیقی تفریق قرار نہیں دی گئی۔ طه : ۵۱ کے بنی اسرائیل: ۸۵