جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 502

جنگ مقدّس — Page 257

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۵۵ جنگ مقدس تو پہلا حکم جو لڑائی کے لئے نازل ہوا وہ یہ تھا۔ اُذن لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوار بنا الله ( س ۱۳/۱۷) یعنی ان لوگوں کو مقابلہ کی اجازت دی گئی جن کے قتل کے لئے مخالفوں نے چڑھائی کی۔ اس وجہ سے اجازت دی گئی کہ ان پر ظلم ہوا اور خدا مظلوم کی حمایت کرنے پر قادر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے وطنوں سے ناحق نکالے گئے اور ان کا گناہ بجز اس کے اور کوئی نہ تھا جو ہمارا رب اللہ ہے دیکھئے کہ یہ پہلی آیت ہے جس سے سلسلہ لڑائیوں کا شروع ہوا اور پھر اس کے بعد خدا تعالیٰ نے اس حالت میں کہ مخالف لڑائی کرنے سے باز نہ آئے یہ دوسری آیت نازل فرمائی ۔ وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِین کے یعنی جو لوگ تم سے لڑتے ہیں ان کا مقابلہ کرو اور پھر بھی حد سے مت بڑھو کیونکہ خدا تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا اور پھر فرمایا ۔ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُمْ مِنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ یعنی قتل کرو انہیں جہاں پاؤ اور اسی طرح نکالو جس طرح انہوں نے نکالا۔ پھر فرمایا۔ وَقَتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ الله کے یعنی اس حد تک ان کا مقابلہ کرو کہ ان کی بغاوت دور ہو جاوے اور دین کی روکیں اٹھ جائیں اور حکومت اللہ کے دین کی ہو جائے ۔ اور پھر فرمایا ۔ قُل قِتَالُ فِيْهِ كَبِيرٌ وَصَدُّ عَنْ سَبِيلِ اللهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ اَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إنِ اسْتَطَاعُوا یعنی شہر حرام میں قتل تو گناہ ہے لیکن خدا تعالیٰ کی راہ سے روکنا اور کفر اختیار کرنا اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کو مسجد حرام سے خارج کرنا یہ بہت بڑا گناہ ہے ۔ اور بغاوت کو پھیلانا یعنی امن کا خلل انداز ہونا قتل ۔ بڑھ کر ہے اور ہمیشہ قتل کے لئے یہ لوگ مقابلہ کریں گے ۔ تا اگر ممکن ہو تو تمہیں دین حق سے پھیر دیں ۔ اور پھر فرمایا ۔ وَلَوْلَا دَفْعُ اللهِ النَّاسَ بَعْضَهُمُ الخ - یعنی اگر اللہ تعالیٰ بعض کے شر کو بعض کی تائید کے ساتھ دفع نہ کرتا ۔ تو زمین فاسد ہو جاتی اور پھر فرمایا ۔ اِن عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَاعُو قِبْتُمُ به یعنی اگر تم ان کا (۱۵۸) الحج : ۴۰ ۴۱ ۲ البقرة : ١٩١ ٣ البقرة : ١٩٢ ٢ البقرة : ۱۹۴: ۵ـ البقرة : ۲۱۸ - البقرة: ۲۵۲ - النحل : ۱۲۷