جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 256 of 502

جنگ مقدّس — Page 256

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۵۴ جنگ مقدس کام ہوتے ہیں اور انہیں سے اولاد ہوتی ہے۔ پس اس سے ثابت ہے کہ کتاب کے نزول سے پہلے مواخذہ قائم نہیں ہوتا اور یہ تو آپ اقرار کر چکے ہیں کہ یہ تمام احکام بندہ کے فائدہ کیلئے ہوتے ہیں اور اس بات کا آپ نے کوئی صحیح جواب نہیں دیا کہ جس حالت میں ان تمام امور میں بندہ کا فائدہ ہی متصور ہے اور خدا تعالیٰ کے وعد اور وعید سے پہلے مواخذہ بھی نہیں ہوتا تو پھر جب کہ بڑے آسان طریق سے یہ طریق اس طرح پر چل سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کے موافق تو بہ کرنے والوں کی تو بہ کو قبول کرے تو پھر کسی دوسرے نا معقول طریق کی کیا حاجت ہے اب بقیہ اس کا کسی دوسرے وقت میں بیان کیا جاوے گا اس وقت ہم جہاد کے بارہ میں جو باقی حصہ ہے بیان کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں جہاد کی بنا صرف امن قائم کرنے اور بتوں کی شان توڑنے اور حملہ مخالفانہ کے روکنے کے لئے ہے اور یہ آیت یعنی قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَ هُمْ طَخِرُونَ آپ کو کیا فائدہ پہنچا سکتی ہے اور کونسا جبر اس سے ثابت ہو سکتا ہے اس کے معنے تو صاف ہیں کہ ان بے ایمانوں سے لڑو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے یعنی عملی طور پر فسق و فجور میں مبتلا ہیں اور حرام کوحرام نہیں جانتے اور سچائی کی راہیں اختیار نہیں کرتے جو اہل کتاب میں سے ہیں جب تک کہ وہ جزیہ اپنے ہاتھ سے ۱۵۷ دیں اور وہ ذلیل ہوں۔ دیکھو اس سے کیا ثابت ہوتا ہے اس سے تو یہی ثابت ہوا کہ جو اپنی بغاوتوں کی وجہ سے حق کے روکنے والے ہیں اور ناجائز طریقوں سے حق پر حملہ کرنے والے ہیں ان سے لڑو اور ان سے دین کے طالبوں کو نجات دو ۔ اس سے یہ کہاں ثابت ہو گیا کہ یہ لڑائی ابتداء بغیر ان کے کسی حملہ کے ہوئی تھی ۔ لڑائیوں کے سلسلہ کو دیکھنا از بس ضروری ہے اور جب تک آپ سلسلہ کو نہ دیکھو گے اپنے تئیں عمداً یا سہواً بڑی غلطیوں میں ڈالو گے۔ سلسلہ تو یہ ہے کہ اول کفار نے ہمارے نبی صلعم کے قتل کا ارادہ کر کے آخر اپنے حملوں کی وجہ سے ان کو مکہ سے نکال دیا۔ اور پھر تعاقب کیا اور جب تکلیف حد سے بڑھی التوبة : ٢٩