جنگ مقدّس — Page 254
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۵۲ جنگ مقدس یہ بھی کہا گیا کہ جیسا کہ تم لوگوں کا خیال ہے کہ اور اور معبود بھی کارخانہ الوہیت میں کچھ دخل رکھتے ہیں یہ غلط محض ہے ہر ایک امر کا مرجع اور مبدء خدا ہے اور وہی علت العلل اور مسبب الاسباب ہے۔ یہی غرض تھی جس کے لحاظ سے بعض اوقات خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں بعض درمیانی و سابط اٹھا کر اپنے علت العلل ہونے کا ذکر کیا جیسے کہ کہا۔ "کشتی جو دریا میں چلتی ہے یہ ہمارا ہی احسان ہے۔ غرض اس جگہ ہم نے آپ کو کافی جواب دے دیا ہے کہ قرآن شریف پر جبر کا اعتراض نہیں ہو سکتا اور نہ ہم جبر یہ کہلاتے ہیں۔ آپ کو اب تک مسلمانوں کے عقیدہ کی بھی کچھ خبر نہیں۔ یہ بھی آپ نہیں جانتے جس حالت میں اللہ تعالیٰ چور کے ہاتھ کاٹنے کے لئے اور زانی کے سنگسار کرنے کے لئے قرآن کریم میں صاف حکم فرماتا ہے تو پھر اگر جبری تعلیم ہوتی تو کون سنگسار ہو سکتا تھا۔ قرآن شریف میں نہ ایک نہ دو بلکہ صد با آیات انسان کے اختیار کی پائی جاتی ہیں۔ اگر آپ چاہیں گے تو کوئی مکمل فہرست پیش کر دی (۱۵۵) جائے گی اور اس قدر تو آپ خود بھی مانتے ہیں کہ انسان من کل الوجوه مختار مطلق نہیں اور اس کے قومی اور جوارح اور دوسرے اسباب بیرونی اور اندرونی پر خدا تعالیٰ کی حکومت کا سلسلہ جاری ہے اور یہی مذہب ہمارا ہے تو پھر کیوں ناحق کج بحثی سے بات کو طول دیتے ہیں دیکھئے جب الزامی طور پر آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا کہ توریت میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرعون کا دل سخت کر دیا اور امثال میں لکھا ہے کہ شریر جہنم کے لئے بنائے گئے ۔ تو آپ کیسی رکیک تاویلیں کرتے ہیں اور پھر تعجب کہ قرآن کریم کی آیات بینہ پر ایسی سخت گیری کر رہے ہیں جس نے ایک نا کردہ تعصب کی حد تک آپ کو پہنچا دیا ہے۔ کسی کا یہ مقولہ ٹھیک ہے۔ " گر حفظ مراتب نہ کنی ۔ قرآن شریف صرف ایک شق کے بیان کرنے کے لئے نہیں آیا بلکہ ایسے ایسے موقعوں پر دونوں شقوں کا بیان کرنا اس کا فرض ہے۔ کبھی برعایت اپنے علت العلل ہونے کے اپنے تصرفات کا حال بیان کرتا ہے اور کبھی بلحاظ انسان کے مکلف بالاختیار ہونے کے اس کے اختیارات کا ذکر فرماتا ہے۔ پھر ایک بات کو دوسری بات میں دھسا دینا اور اپنے اپنے موقعہ پر چسپاں نہ رکھنا اگر تعصب نہیں تو اور کیا ہے اور اگر اعتراض اس کو کہتے ہیں تو ہم ایک ذخیرہ اس قسم کی آیات کا