جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 502

جنگ مقدّس — Page 244

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۴۲ جنگ مقدس ☆17 آپ کا خدا تعالیٰ کیا فرماتا ہے۔ خدا وند نے ہر یک چیز اپنے لئے بنائی ہاں شریروں کو بھی اُس نے برے دن کے لئے بنایا اب دیکھئے یہ تو گویا اقبالی ڈگری کی طرح آپ پر الزام وارد ہو گیا کہ شریر دوزخ کے لئے بنائے گئے کیونکہ وہی تو برا دن ہے۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ قرآن میں اگر چہ اختیار کی بھی تعلیم ہے مگر پھر مجبوری کی بھی تعلیم اور یہ ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔ اس کے جواب میں میں لکھ چکا ہوں کہ آپ خلط مقاصد کرتے ہیں ۔ جہاں آپ کو مجبوری کی تعلیم معلوم ہوتی ہے وہاں مذاہب باطلہ کا رد مقصود ہے اور ہر ایک فیض کا خدا تعالیٰ کو مبدا قرار دینا مد نظر ہے۔ اور آپ فرماتے ہیں کہ شیطان جو حضرت مسیح کو لے گیا اُس میں کیا مجبوری تھی۔ جواب یہی ہے کہ نور سے ظلمت کی پیروی کرائی گئی۔ نور بالطبع ظلمت سے جدا رہنا چاہتا ہے۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ اگر اختیار کو مانا جائے تو پھر خدا تعالیٰ کا علت العلل قرار دینا لغو ہے آپ کی تقریر کا یہ خلاصہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بکلی خدا تعالیٰ کو معطل کر کے پورا پورا اقتدار اور اختیار چاہتے ہیں جبکہ ہمارے قومی اور ہمارے جوارح کے قومی اور ہمارے خیالات کے مبلغ علم پر اُس کی خدائی کا تسلط ہے وہ کیونکر معطل ہوسکتا ہے۔ اگر ایسا ہو تو علت اور معلولات کا سلسلہ درہم برہم ہو جائے گا۔ اور صانع ۱۳۹ حقیقی کی شناخت کرنے میں بہت سافتور آئے گا اور دعا کرنا بھی لغو ہوگا۔ کیونکہ جبکہ ہم پورا اختیار رکھتے ہیں تو پھر دعا بے فائدہ ہے۔ آپ کو یادر ہے کہ خدا تعالیٰ کو علت العلل مان استلزم مجبوری نہیں یہی ایمان ہے یہی تو حید ہے کہ اس کو علت العلل مان لیا جاوے اور اپنی کمزوریوں کے دُور کرنے کے لئے اس سے دعائیں کی جائیں۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ یہ کلمہ کہ ان کو آنکھیں دیکھنے کے لئے نہیں دیں۔ مجاز ہے۔ حضرت اگر یہ مجاز ہے تو پھر کہاں سے معلوم ہوا کہ دلوں پر مہر لگانا اور آنکھوں پر پردہ ڈالنا حقیقت ہے۔ کیا اس جگہ آپ کو مہریں اور پر دے نظر آگئے ہیں۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ اگر آپ نے رحم بلا مبادلہ کو رد کر دیا ہے تو بس خوش ہو جیسے ۔ افسوس ابھی تک آپ میری بات کو نہ سمجھے یہ تو ظاہر ہے کہ عدل کا مفہوم جانبین کے حقوق کو قائم کرتا ہے یعنی اس سے لازم آتا ہے کہ ایک خدا تعالی کا بندہ پر حق ہو جس حق کا وہ مطالبہ کرے اور ایک بندہ کا خدا تعالیٰ پر سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ۱۶٫۴ “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)