جنگ مقدّس — Page 243
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۴۱ جنگ مقدس اور مسبب الاسباب وہی ہے اور بعض ایسے بھی تھے جو مادہ اور روح کو قدیم سمجھ کر خدا تعالیٰ کا علت العلل ہونا بطور ضعیف اور ناقص کے خیال کرتے تھے۔ پس یہ الفاظ قرآن کریم کے کہ میرے ہی امر سے سب کچھ پیدا ہوتا ہے۔ توحید محض کے قائم کرنے کے لئے تھے۔ ایسی آیات سے انسان کی مجبوری کا نتیجہ نکالنا تفسير القول بما لا يرضی بہ قائلہ ہے۔ اور خدا تعالی کے قانون قدرت پر نظر ڈال کر یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ آزادی اور عدم مجبوری جس کا ڈپٹی صاحب موصوف دعوئی کر رہے ہیں دنیا میں پائی نہیں جاتی بلکہ کئی قسم کی مجبوریاں مشہود و محسوس ہورہی ہیں۔ مثلاً بعض ایسے ہیں کہ اُن کا حافظہ اچھا نہیں وہ اپنے ضعیف حافظہ سے بڑھ کر کسی بات کے یاد کرنے میں مجبور ہیں بعض کا متشکرہ اچھا نہیں وہ صحیح نتیجہ نکالنے سے مجبور ہیں۔ بعض بہت چھوٹے سر والے جیسے وہ لوگ جنہیں دولہ شاہ کا چوہا کہتے ہیں ایسے ہیں کہ وہ کسی امر کے سمجھنے کے قابل نہیں۔ ان سے بڑھ کر بعض دیوا نے بھی ہیں اور خود انسان کے قومی ایک حد تک رکھے گئے ہیں جس حد سے آگے وہ کام اُن سے نہیں لے سکتے ۔ یہ بھی ایک قسم کی مجبوری ہے۔ پھر ڈپٹی صاحب فرماتے ہیں کہ اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ خیر اور شر اللہ تعالیٰ کی طرف (۱۴۵) سے ہے افسوس کہ ڈپٹی صاحب کیسے صحیح معنے سے پھر گئے ۔ واضح ہو کہ اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ خدا تعالیٰ شر کو بحیثیت شر پیدا کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے۔ إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن یعنی اے شیطان شر پہنچانے والے میرے بندوں پر تیرا تسلط نہیں بلکہ اس فقرہ کے یہ معنے ہیں کہ ہر ایک چیز کے اسباب خواہ وہ چیز خیر میں داخل ہے یا شر میں خدا تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں۔ مثلاً اگر شراب کے اجزاء جن سے شراب بنتی ہے موجود نہ ہوں تو پھر شرابی کہاں سے شراب بناسکیں اور پی سکیں لیکن اگر اعتراض کرنا ہے تو پہلے اس آیت پر اعتراض کیجئے کہ " سلامتی کو بناتا اور بلا کو پیدا کرتا ہے ۔“ یسعیاہے۔ پھر آگے ڈپٹی صاحب موصوف فرماتے ہیں کہ جس کا خلاصہ یہ ہے۔ توریت میں ایسا کوئی حکم نہیں کہ دوزخ کیلئے خدا نے کسی کو مجبور کیا ہے۔ اس کا یہی جواب ہے کہ فرعون کا دل خدا نے سخت کیا آپ اس کو مانتے ہیں۔ پھر انجام فرعون کا اس سخت دلی سے جہنم ہوایا بہشت نصیب ہوا۔ پھر دیکھو امثال الحجر : ۴۳