جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 502

جنگ مقدّس — Page 242

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۴۰ جنگ مقدس اور یوں تو ہر ایک نبوت کے سلسلہ میں تین جزوں کا ہونا ضروری ہے اور آپ صاحبوں کی یہ خوش فہمی ہے کہ اُن کا نام تین اقنوم رکھا۔ روح القدس اسی طرح حضرت مسیح پر نازل ہوا جس طرح قدیم سے نبیوں پر نازل ہوتا تھا جس کا ثبوت ہم دے چکے نئی بات کونسی تھی ۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں بھی پہلے لکھا ہے کہ سب کام اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ ۱۴۳ میں کہتا ہوں کہ گو یہ بات سچ ہے اور اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ اِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ له خدا تعالیٰ کی طرف ہی ہر ایک امر رجوع کرتا ہے مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اس سے انسان کی مجبوری لازم آتی ہے غلط نہی ہے۔ یوں تو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ بھی فرمایا ہے کہ میں مینہ برساتا ہوں اور برق و صاعقہ کو پیدا کرتا ہوں اور کھیتیاں لگا تا ہوں مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اسباب طبعیہ مینہ برسنے اور رعد و برق کے پیدا ہونے کے جو ہیں اس سے اللہ تعالی انکار کرتا ہے۔ بالکل فضول ہے۔ کیونکہ یہ مراتب بجائے خود بیان فرمائے گئے ہیں کہ یہ تمام چیزیں اسباب طبعیہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ پس اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے ایسے بیانات سے کہ میرے حکم سے بارشیں ہوتی ہیں اور میرے حکم سے کھیتیاں اُگتی ہیں اور برق وصاعقہ پیدا ہوتا ہے اور پھل لگتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اور ہر ایک بات میرے ہی قبضہ اقتدار میں اور میرے ہی امر سے ہوتی ہے۔ یہ ثابت کرنا مقصود نہیں کہ سلسلہ کا ئنات کا مجبور مطلق ہے بلکہ اپنی عظمت اور اپنا علت العلل ہونا اور اپنا مسبب الاسباب ہونا مقصود ہے کیونکہ تعلیم قرآنی کا اصل موضوع توحید خالص کو دنیا میں پھیلانا اور ہر ایک قسم کے شرک کو جو پھیل رہا تھا مٹانا ہے۔ اور چونکہ قرآن شریف کے نازل ہونے کے وقت عرب کے جزیرہ میں ایسے ایسے مشرکانہ عقائد پھیل رہے تھے کہ بعض بارشوں کو ستاروں کی طرف منسوب کرتے تھے اور بعض دہریوں کی طرح تمام چیزوں کا ہونا اسباب طبعیہ تک محدود رکھتے تھے ۔ اور بعض دو خدا سمجھ کر اپنے نا ملائم قضا و قدر کو اھرمن کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اس لئے یہ خدا تعالیٰ کی کتاب کا فرض تھا جس کے لئے وہ نازل ہوئی کہ اُن خیالات کو مٹادے اور ظاہر کرے کہ اصل علت العلل هود : ۱۲۴