جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 239 of 502

جنگ مقدّس — Page 239

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۳۷ جنگ مقدس قرآن سے ہے۔ جو انجیل کی آیتوں کے اوپر آپ نے اپنا حاشیہ چڑھایا ہے۔ سو صحیح نہیں ۔ میں نے عرض کر دیا ہے کہ بدی کے واسطے خدا کی طرف سے پر مشن ہوتا ہے یعنی اجازت اور پر ولجوں کے واسطے وہاں ہی تک حد ہے کہ جس میں دوزخ اور بہشت کا کچھ ذکر نہیں۔ دنیا کے اندر کمی اور زیادتی وسعت کا ذکر ہے۔ پھر ان کو آپ ممثلہ قرآن کا کیونکر کہتے ہیں۔ میں تو کہتا ہوں کہ قرآن میں جبر اور قدر ہر دو ہیں لیکن یہ امر ہر دو باہم متفق نہیں ہو سکتے ۔ بلکہ ایک دوسرے کے نقیض ہیں جیسا کہ یہ کہنا کہ اختیار ہے بھی اور نہیں بھی صاف نقیض ہے۔ (۴) خداوند مسیح کی آزمائش میں شیطان نے جو انسانیت کا امتحان کیا ہے آپ کا مطلب کیا ہے کچھ ظاہر نہیں۔ اس میں جبر وقد ر کا علاقہ کیا ہے۔ آپ کی مثال آفتاب کی نہ معلوم کیونکر بر حل ہے جب آپ کہتے ہیں کہ سبب ثانی کے افعال بھی خدا تعالیٰ اپنی طرف جو سبب اولیٰ ہے منسوب کرتا ہے نہ معلوم کیوں کرتا ہے کیا ضرورت اس کی تھی سبب ثانی کے افعال ایسی صورت میں سبب اُولیٰ سے منسوب ہو سکتے ہیں کہ جب کچھ دخل سبب اُولیٰ کا بھی اس میں ہو۔ سبب اُولیٰ نے ایک شخص کو فعل مختار بنایا فعل مختاری در خود جب تک کچھ اس سے ظہور نہ ہو وے قابل مواخذہ کے نہیں لہذا وہ در حقیقت بری بھی نہیں بلکہ بھلی ہے اور سبب اولی اگر اس میں دخل دیوے تو فعل مختاری کا نفیض ہو جاوے۔ یہ خود اس کے منصو بہ فعل مختار بنانے سے بعید ہے۔ اس کے معنے ہم نے کر دیئے ہیں کہ فرعون کا دل کیونکر سخت کر دیا ہم نے اس کے معنے پہلے عرض کر دیئے یعنی یہ کہ اس کو بدی کرنے سے روکا نہیں اور اپنے فضل کا ہاتھ اُس سے اٹھا لیا اسی طرح سے اس کا دل سخت ہو گیا۔ پھر اس میں خدا تعالیٰ نے کچھ نہیں کیا مگر اجازت روکنے کی نہیں دی اس کو ہمارے ہاں پر مشن کہتے ہیں اور یہ کلام مجاز ہے کہ ان کو آنکھیں دیکھنے کی نہیں دیں یا کان سننے کے نہیں دئیے جس سے یہ مراد ہوئی کہ آنکھ (۱۳۲) اور کان رکھتے ہوئے جب وہ نہیں دیکھتے اور نہیں سنتے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو روکا نہیں ایسا ہی کلام مجاز یہ ہے کہ جس طرح باپ اپنے لڑکے سے ناراض ہو کر کہتا ہے کہ تو مر جائے