جنگ مقدّس — Page 235
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۳۳ جنگ مقدس لیکن انجیل متی سے تو اس کے برخلاف ثابت ہوتا ہے کیونکہ انجیل متی سے یہ بات بپایہ ثبوت پہنچتی ہے کہ شیطان حضرت مسیح کو آزمائش کے لئے لے گیا۔ تو یہ ایک قسم کی حکومت شیطان کی ٹھہری کہ ایک مقدس نبی پر اس نے اس قدر جبر کیا کہ وہ کئی جگہ اس کو لئے پھرا۔ یہانتک کہ بے ادبی کی راہ سے اسے یہ بھی کہا کہ تو مجھے سجدہ کر۔ اور ایک بڑے اونچے پہاڑ پر لے گیا ۱۳۸۶ ہے اور دنیا کی ساری بادشاہتیں اور ان کی شان و شوکت اسے دکھلائیں ۔ دیکھومتی ہے اور پھر غور کر کے دیکھو کہ اس جگہ پر شیطان کیا بلکہ خدائی جلوہ دکھلایا گیا ہے کہ اول وہ بھی اپنی مرضی سے مسیح کی خلاف مرضی ایک پہاڑ پر اس کو لے گیا اور دنیا کی بادشاہتیں دکھا دینا خدا تعالیٰ کی طرح اُس کی قوت میں ٹھہرا۔ اور بعد اس کے واضح ہو کہ یہ بات جو آپ کے خیال میں جم گئی ہے کہ گویا قرآن کریم نے خواہ نخواہ بعض لوگوں کو جہنم کے لئے پیدا کیا ہے یا خواہ نخواہ دلوں پر مہریں لگا دیتا ہے یہ اس بات پر دلیل ہے کہ آپ لوگ کبھی انصاف کی پاک نظر کے ساتھ قرآن کریم کو نہیں دیکھتے۔ دیکھو اللہ جل شانہ کیا فرماتا ہے ۔ لَامُلَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ اس ۱۴/۲۳ یعنی شیطان کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ میں جہنم کو تجھ سے اور اُن لوگوں سے جو تیری پیروی کریں بھروں گا۔ دیکھیے اس آیت سے صاف طور پر کھل گیا اللہ تعالیٰ کا یہ منشا نہیں ہے کہ خواہ مخواہ لوگوں کو جبر کے طور پر جہنم میں ڈالے بلکہ جو لوگ اپنی بداعمالیوں سے جہنم کے لائق ٹھہریں ان کو جہنم میں گرایا جاوے گا۔ اور پھر فرماتا ہے يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِى بِهِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِةٍ إِلَّا الْفُسِقِينَ " یعنی بہتوں کو اس کلام سے گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو یہ ہدایت دیتا ہے مگر گمراہ ان کو کرتا ہے جو گمراہ ہونے کے کام کرتے ہیں۔ اور فاسقانہ چالیں چلتے ہیں یعنی انسان اپنے ہی افعال کا نتیجہ خدا تعالیٰ سے پالیتا ہے جیسے کہ ایک شخص آفتاب کے سامنے کی کھڑ کی جب کھول دیتا ہے تو ایک قدرتی اور فطرتی امر ہے کہ آفتاب کی روشنی اور اس کی کرنیں اس کے منہ پر پڑتی ہیں۔ لیکن جب وہ اس کھڑکی کو بند کر دیتا ہے تو اپنے ہی فعل سے اپنے لئے اندھیرا پیدا کر لیتا ہے ص البقرة: ۲۷