جنگ مقدّس — Page 234
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۳۲ جنگ مقدس ۱۳۷ بات یہ ہے کہ امر کے معنے حکم اور حکومت کے ہیں اور یہ بعض ان لوگوں کا خیال تھا جنہوں نے کہا کہ کاش اگر حکومت میں ہمارا دخل ہوتا تو ہم ایسی تدابیر کرتے جس سے یہ تکلیف جو جنگ احد میں ہوئی ہے پیش نہ آتی۔ اس کے جواب میں اللہ تعالی فرماتا ہے۔ قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلهِ یعنی تمام امر خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہیں تمہیں اپنے رسول کریم کا تابع رہنا چاہیے۔ اب دیکھنا چاہیے کہ اس آیت کو قدر سے کیا تعلق ہے۔ سوال تو صرف بعض آدمیوں کا اتنا تھا کہ اگر ہماری صلاح اور مشورہ لیا جاوے تو ہم اس کے مخالف صلاح دیں تو اللہ تعالیٰ نے اُن کو منع فرمایا کہ اس امر کی اجتہاد پر بنا نہیں یہ تو اللہ تعالی کا حکم ہے پھر بعد اس کے واضح رہے کہ تقدیر کے معنے صرف اندازہ کرنا ہے جیسے کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرات س ۱۲/۱۸ یعنی ہر ایک چیز کو پیدا کیا تو پھر اس کے لئے ایک مقرر اندازہ ٹھہرا دیا اس سے کہاں ثابت ہوتا ہے کہ انسان اپنے اختیارات سے روکا گیا ہے بلکہ وہ اختیارات بھی اسی اندازہ میں آگئے جب خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت اور انسانی خوئے کا اندازہ کیا تو اس کا نام تقدیر رکھا۔ اور اسی میں یہ مقرر کیا کہ فلاں حد تک انسان اپنے اختیارات برت سکتا ہے یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ تقدیر کے لفظ کو ایسے طور پر سمجھا جائے کہ گویا انسان اپنے خدا داد قولی سے محروم رہنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔ اس جگہ تو ایک گھڑی کی مثال ٹھیک آتی ہے کہ گھڑی کا بنانے والا جس حد تک اس کا دور مقرر کرتا ہے اس حد سے وہ زیادہ چل نہیں سکتی ۔ یہی انسان کی مثال ہے کہ جو قو می اس کو دیئے گئے ہیں اُن سے زیادہ وہ کچھ کر نہیں سکتا اور جو عمر دی گئی ہے اس سے زیادہ جی نہیں سکتا ۔ اور یہ سوال کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں جبر کے طور پر بعضوں کو جہنمی ٹھہرا دیا ہے اور خواہ نخواہ شیطان کا تسلط ان پر لازمی طور پر رکھا گیا ہے یہ ایک شرمناک غلطی ہے ۔ اللہ جل شانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ اِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن " کہ اے شیطان میرے بندوں پر تیرا کچھ بھی تسلط نہیں۔ دیکھئے کس طرح پر اللہ تعالیٰ انسان کی آزادی ظاہر کرتا ہے۔ منصف کے لئے اگر کچھ دل میں انصاف رکھتا ہو تو یہی آیت کافی ہے آل عمران : ۱۵۵ الفرقان : ٣ الحجر :٤٣