جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 502

جنگ مقدّس — Page 233

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۳۱ جنگ مقدس عدل کا مفہوم ضرور اس بات کو چاہتا ہے کہ اوّل جانبین میں حقوق قرار دیئے جائیں۔ لیکن مخلوق کا خدا تعالیٰ پر جس نے عدم محض سے اُس کو پیدا کیا کوئی حق نہیں ورنہ ایک گتا مثلاً کہہ سکتا ہے کہ مجھ کو بیل کیوں نہیں بنایا اور بیل کہہ سکتا ہے کہ مجھے کو انسان کیوں نہیں بنایا اور چونکہ یہ جانور اسی دُنیا میں جہنم کا نمونہ بھگت رہے ہیں اگر عدل خدا تعالیٰ پر ایک لازمی صفت تھوپ دی جائے تو ایسا سخت اعتراض ہو گا کہ جس کا جواب آپ سے کسی طور پر نہ بن پڑے گا۔ پھر آپ نے جبر قدر کا اعتراض پیش کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ قرآن سے جہر ثابت ہوتا ہے۔ اس کے جواب میں واضح ہو کہ شاید آپ کی نظر سے یہ آیات نہیں گذریں جو انسان کے کسب و اختیار پر صریح دلالت کرتی ہیں اور یہ ہیں:۔ وَانْ لَّيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعی (س) ۳/۲۷) کہ انسان کو وہی ملتا ہے جو سعی کرتا ہے جو اُس نے کوشش کی ہو یعنی عمل کرنا اجر پانے کے لئے ضروری ہے پھر فرماتا ہے وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ ( س۲۲ - (۵) یعنی خدا اگر لوگوں کے اعمال پر جو اپنے اختیار سے کرتے ہیں اُن کو پکڑتا تو کوئی زمین پر چلنے والا نہ چھوڑتا۔ اور پھر فرماتا ہے لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۳ (۸/۳) اُس کے لئے جو اُس نے کام اچھے کئے اور اُس پر جو اُس نے بُرے کام کئے ۔ پھر فرماتا ہے مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ ( ۶/۲۴) جو شخص اچھا کام کرے سو اس کے لئے اور جو بُرا کرے وہ اُس کے لئے ۔ پھر فرماتا ہے فَكَيْفَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ٥ (س ۶٫۵) یعنی کس طرح جس وقت پہنچے اُن کو مصیبت بوجہ اُن اعمال کے جو اُن کے ہاتھ کر چکے ہیں ۔ اب دیکھئے ان تمام آیات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ انسان اپنے کاموں میں اختیار بھی رکھتا ہے اور اس جگہ ڈپٹی صاحب نے جو یہ آیت پیش کی ہے ۔ يَقُولُونَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَيْءٍ 3 اور اس سے ان کا مدعا ہے کہ اس سے جبر ثابت ہوتا ہے یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ دراصل النجم ۴۰ ۲ فاطر : ۴۶ ۳ البقرة : ۲۸۷ ۲ حم السجدة: ۴۷ ۵ـ النساء: ۶۳ ۱ ال عمران: ۱۵۵