جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 502

جنگ مقدّس — Page 212

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۱۰ جنگ مقدس کل بیان کیا تھا کہ کروڑہا جانور انسان کے فائدہ کے لئے ہلاک کئے جاتے ہیں ۔ اور نیز تو رات سے ثابت ہے کہ حضرت نوح کے طوفان میں بجز چند جانوروں کے باقی تمام حیوانات طوفان سے ہلاک کئے گئے ۔ کیا ان کا کوئی گناہ تھا کوئی نہ تھا۔ صرف مالکیت کا تقاضا تھا۔ اور یہ بات کہ گناہ قانون سے پیدا ہوتا ہے یہ اس آیت سے صاف ثابت ہے وَالَّذِینَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِايْتِنَا أُولَيكَ أصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ اس اہم یعنی جو لوگ ہماری کتاب کے پہنچنے کے بعد کفر اختیار کریں اور تکذیب کریں وہ جہنم میں گرائے جائیں گے۔ اور پھر خدا تعالیٰ کا تو بہ سے گناہ بخشا اس آیت سے ثابت ہے۔ غَافِرِ الذَنْبِ وَقَابِلِ الثَّوْبِ س ۲۴ ۶٫ ۔ اور خدا تعالیٰ کی رحمانیت اور رحیمیت اور مالکیت ان آیات سے ثابت ہے۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ کے اور بقیہ جوابات ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب کے ذیل میں لکھتا ہوں ۔ آپ فرماتے ہیں کہ حضرت سیح کی روح مخلوق تھی اور جسم بھی مخلوق تھا اور خدا تعالیٰ اس طرح اُن سے تعلق رکھتا تھا جیسا کہ وہ ہر جگہ موجود ہے یہ فرمانا ڈپٹی صاحب کا مجھے سمجھ نہیں آتا جبکہ حضرت مسیح نرے انسان ہی تھے اور ان میں کچھ بھی نہیں تھا تو پھر خدا تعالیٰ کا تعلق اور خدا تعالیٰ کا موجود ہونا ہر ایک جگہ پایا جاتا ہے پھر باوجود اس کے آپ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حضرت مسیح مظہر اللہ ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ مظہر اللہ کیسے ہوئے اس سے تو لازم آیا کہ ہر ایک چیز مظہر اللہ ہے۔ پھر میرا یہ سوال ہے کیا یہ مظہر اللہ ہونا روح القدس کے نازل ہونے سے پہلے ہوا یا روح القدس کے پیچھے ہوا۔ اگر پیچھے ہوا تو پھر آپ کی کیا خصوصیت رہی۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ ہم یہ نہیں مانتے کہ خدا تعالیٰ کی ذات کثیف ہے لہذا اس میں وزن کیونکر ہو ۔ میرا جواب ہے کہ بیٹا یعنی حضرت عیسی کا اقنوم مجسم ہونا ثابت ہے کیونکہ لکھا ہے کہ کلام مجسم ہوا اور روح القدس بھی مجسم تھا کیونکہ لکھا ہے کہ کبوتر کی شکل میں اترا اور آپ کا خدا بھی مجسم ہے کیونکہ یعقوب سے کشتی کری اور دیکھا بھی گیا اور بیٹا اس کے داہنے ہاتھ جا بیٹھا۔ البقرة : ٤٠ المؤمن : الفاتحة : ۲ تا ۴