جنگ مقدّس — Page 211
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۰۹ جنگ مقدس اب منصف لوگ دیکھ لیں کہ قرآن کریم نے معافی کا کیا طریق ٹھہرایا اور انجیل شریف کے رو سے معافی کا کیا طریق بیان کیا جاتا ہے سو واضح ہو کہ قرآن کریم کی ہدا یتیں کسی شخص کی معافی کے لئے کوئی بے جا تشد داور کوئی اصول جو ظلم ستیک منجر ہو بیان نہیں فرماتیں صرف اصلی اور طبعی طور پر یہ فرماتی ہیں ۔ کہ جو شخص قانون الہی کے توڑنے سے کسی جرم ۱۱۲ کا ارتکاب کرے تو اس کے لئے یہ راہ کھلی ہے کہ وہ سچی توبہ کر کے اور اُن قوانین کی صحت اور حقانیت پر ایمان لا کر پھر سر نو جد و جہد سے ان قوانین کا پابند ہو جائے یہاں تک کہ ان کے راہ میں مرنے سے بھی دریغ نہ کرے۔ ہاں یہ بھی لکھا ہے کہ شفاعت بھی مجرموں کے لئے فائدہ بخش ہے مگر خدا تعالیٰ کے اذن سے اور اعمال حسنہ بھی گناہوں کا تدارک کرتے ہیں اور ایمانی ترقی بھی اور نیز محبت اور عشق بھی گناہوں کے خس و خاشاک کو آگ کی طرح جلا دیتی ہے لیکن حضرات عیسائی صاحبوں کے اصول میں اول الدن دردی یہ ہے کہ گناہوں کی معافی کے لئے ایک بے گناہ کا مصلوب ہونا لازمی اور ضروری سمجھا گیا ہے اب عقلمند منصف خود ہی فیصلہ کر سکتے ہیں اور یہ بھی یادر ہے کہ ہر ایک جھگڑے اور تنازعہ کے فیصلہ کے لئے خدا تعالیٰ کا قانون قدرت موجود ہے یہ قانون قدرت صاف شہادت دے رہا ہے کہ خدا تعالیٰ کا رحم بلا مبادلہ قدیم سے جاری ہے جس قدر خدا تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کر کے اور طرح طرح کی نعمتیں انسانوں کو بخش کر اپنا رحم ظاہر کیا ہے۔ کیا اس سے کوئی انکار کر سکتا ہے۔ جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللهِ لَا تُحْصُوهَا ا س ۱۳ رے ۔ یعنی اگر تم خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو گننا چا ہو تو ہر گز گن نہیں سکتے ۔ ایسا ہی اس کی رحیمیت یعنی کسی نیکی کے پاداش میں جزا دینا قانون قدرت سے صاف ثابت ہو رہا ہے کیونکہ جو شخص نیک راہوں پر چلتا ہے وہ ان کا نتیجہ بھگت لیتا ہے ۔ ایسا ہی اس کی مالکیت بھی قانون قدرت کے رو سے ثابت ہو رہی ہے۔ جیسا کہ میں نے ابراهیم : ۳۵