جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 502

جنگ مقدّس — Page 197

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۹۵ جنگ مقدس اس کے جواب کا انتظار ہم جناب کی طرف سے کرتے ہیں اور یہ جواب اس کا ہونا چاہیے کہ یہ دونوں اصول صداقتیں بالبداہت ہیں یا نہیں دیا کہ صداقتیں ہیں یا نہیں لیکن ہرجہ ادا ہو جاتا ہے اور صفات وہ قائم رہتی ہیں اور میرا عرض کرنا اس بارہ میں اور کچھ ضرور نہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ جیسے میرے یہ مختصر سوال ہیں ویسا ہی مختصر جواب ہو جانا چاہیے۔ دستخط بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک پریذیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان دستخط بحروف انگریزی غلام قادر صیح پریذیڈنٹ از جانب اہل اسلام بیان حضرت مرزا صاحب ۳۰ رمئی ۱۸۹۳ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ڈپٹی صاحب نے رحم بلا مبادلہ کا جو سوال کیا ہے حقیقت میں اس کی بنیاد حضرت مسیح کی الوہیت مانے پر رکھی گئی ہے اس لئے صفائی بیان کے لئے بہت ضروری ہے کہ پہلے برعایت اختصار اس کا کچھ ذکر کیا جائے کیونکہ اگر حضرت مسیح کی الوہیت ثابت ہو جائے تو پھر اس لمبے جھگڑے کی کچھ ضرورت نہیں اور اگر دلائل قطعیہ سے صرف انسان ہونا ان کا ثابت ہو اور الوہیت کا بطلان ہو تو پھر جب تک ڈپٹی صاحب موصوف الوہیت کو ثابت نہ کریں تب تک داب مناظرہ سے بعید ہو گا کہ اور طرف رخ کر سکیں ڈپٹی صاحب موصوف اپنے بیانات سابقہ میں حضرت مسیح کی الوہیت ثابت کرنے کے لئے فرماتے ہیں کہ اور انسانوں کی تو ۱۰۴ ایک روح ہوتی ہے مگر حضرت مسیح کی دو روحیں تھیں ایک انسان کی اور ایک خدا تعالیٰ کی اور گویا حضرت مسیح کے جسم کی دور میں مدبر تھیں مگر یہ امرسمجھ میں نہیں آسکتا ایک جسم کے متعلق دو روحیں کیونکر ہو سکتی ہیں اور اگر صرف خدا تعالیٰ کی روح تھی تو پھر حضرت مسیح انسان بلکہ انسان کامل کن معنوں سے کہلا سکتے ہیں کیا صرف جسم کے لحاظ سے انسان کہلاتے ہیں ۔ اور میں بیان کر چکا ہوں کہ جسم تو معرض تحلل میں ہے چند سال میں اور ہی جسم ہو جاتا ہے