جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 502

جنگ مقدّس — Page 196

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۹۴ جنگ مقدس نے ۸ بجے ۵۳ منٹ پر جواب لکھا نا شروع کیا اور ۹ بجے ۵۰ منٹ پر ختم کیا اور مقابلہ کر کے بلند آواز سے سنایا گیا ۔ بعد ازاں تحریروں پر میر مجلس صاحبان کے دستخط کئے گئے اور چونکہ مرزا صاحب کے جواب کے لئے پورا وقت باقی نہ تھا۔ اس لئے جلسہ برخواست ہوا۔ فقط ۔ ( دستخط بحروف انگریزی ) ( دستخط بحروف انگریزی) ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان غلام قادر فصیح پریذیڈنٹ از جانب اہل اسلام سوال ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب ۳۰ رمتی ۱۸۹۳ء میرا پہلا سوال رحم بلا مبادلہ پر ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ رحم ہو اور تقاضا عدل کا لحاظ نہ ہو ۔ اس کے لئے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا صفات عدل و صداقت کی غیر مقید الظہور بھی ہو سکتی ہیں یعنی ان پر یہ قید نہ رہی کہ وہ ظہور نہ کریں جیسا کہ عدل ہوا یا نہ ہوا ۔ صداقت ہوئی ۱۰۳ یا نہ ہوئی ۔ اعتراض اس میں یہ ہے کہ اگر ایسا ہو وے تو محافظ قدوسی الہی کا کون ہو سکتا ہے اور رحم اور خوبی مقید الظہو ر بھی کیا ہو سکتے ہیں اور اس میں اعتراض یہ ہے کہ اگر ہو سکتے ہیں تو کیا وہ قرضہ دادنی کی صورت نہ پکڑیں گے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ ہر چہ گناہ جب تک باقی رہے تو صورت رہائی گناہ گار کی کون سی ہے اب جبکہ قرآن میں تین راہ نجات رکھے ہیں یعنی ایک یہ کہ گناہ کبائر سے اگر بچو گے تو صغائر رحم سے معاف ہو جائیں گے ۔ دوسرے یہ کہ اگر وزن افعال شنیعہ کا اعمال حسنہ پر نہ بڑھے گا تو رحم کے مستحق ہو جاؤ گے ۔ تیسرے یہ کہ رحم کے مقابلہ میں عدل اپنے تقاضا سے دست بردار ہو جاتا ہے یعنی رحم غالب آتا ہے عدل کے اوپر ۔ دو صورتیں اولین میں یہ اصول ڈالا گیا ہے کہ ادائے جز کا واسطے کل کے حاوی ہے تیسرے اصول میں یہ دکھلایا گیا ہے کہ عدل مقید الظہور نہیں بلکہ رحم مقید الظہور ہے ۔ ان دونوں اصولوں میں جو اوپر بیان ہوئے بداہت کے برخلاف کچھ اس میں بیان ہے یا نہیں کیونکہ مبادلہ عدل کا کچھ نہ ہوا اور یہ رحم بلا مبادلہ ہے جس نے دو صفات الہی کو ناقص کر دیا یعنی عدالت اور صداقت کو۔