جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 195 of 502

جنگ مقدّس — Page 195

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۹۳ جنگ مقدس ہفتہ میں وقت ہے کہ مسیحی اہل اسلام سے دین محمدی کے حق میں سوال کریں اور نہ یہ کہ محمدی صاحب مسیحوں سے دین عیسوی کے حق میں جواب طلب کریں ۔ ثانیاً فی الحال عبد اللہ آتھم صاحب کی طرف سے سوال مسئلہ رحم بلا مبادلہ در پیش ہے اور مرزا صاحب جواب طلب کرتے ہیں دربارہ الوہیت مسیح کے۔ میر مجلس صاحب اسلام کی یہ رائے تھی کہ خلاف شرائط ہر گز نہیں ہے بلکہ عین مطابق شرائط ہے اور ساتھ ہی مرزا صاحب نے بیان فرمایا کہ جواب ہرگز خلاف شرائط نہیں کیونکہ سوال رحم بلا مبادلہ کی بنا الوہیت صحیح ہے۔ اور ہم مسئلہ رحم بلا مبادلہ کا پورا رد (۱۰۲) اس حالت میں کر سکتے ہیں کہ جب پہلے اس بنا کا استیصال کیا جاوے۔ بنا کو کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ بے تعلق ہے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ رحم بلا مبادلہ بنائے فاسد بر فاسد ہے۔ عیسائی جماعت تو مرز اصاحب کے مضمون کو خلاف شرائط قرار دینے پر زور دیتی رہی اور اسلامیہ جماعت اس مضمون کو مطابق شرائط قرار دیتی رہی پادری عماد الدین صاحب کی یہ رائے تھی اور انہوں نے کھڑے ہو کر صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ میر مجلسوں کا منصب نہیں کہ مباشین کو جواب دینے سے روکیں مگر میر مجلس عیسائی صاحبان کے سوال کرنے پر انہوں نے بھی یہی کہا کہ مضمون مرزا صاحب کا خلاف شرط ہے اور مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب نے بھی کہا کہ کسی قدر خلاف شرط تو ہے تا ہم در گذر کرنا چاہیئے ۔ میر مجلس اہل اسلام نے کہا یہ مضمون ہرگز خلاف شرط نہیں اس لئے ہم آپ کا در گذر نہیں چاہتے۔ ایک عرصہ تک اس امر پر تنازعہ ہوتا رہا۔ اسی عرصہ میں ڈپٹی عبد اللہ ہ تم صاحب نے کہا کہ اگر میرے چیئر مین صاحب مجھے مرزا صاحب کے لفظ لفظ کا جواب دینے دیں گے تو میں دوں گا ورنہ میں نہیں دیتا مگر میر مجلس صاحب اہل اسلام نے ڈپٹی صاحب کو کہا کہ آپ کو جواب لکھنے کے لئے میر مجلسوں سے ہدایت لینے کی کچھ ضرورت نہیں۔ آپ کو اختیار ہے کہ جس طرح چاہیں جواب دیں لیکن میر مجلس عیسائی صاحبان نے ڈپٹی صاحب کو روکا اور کہا میں اجازت نہیں دیتا ۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو میں میر مجلسی سے استعفا دے دوں گا کیونکہ یہ خلاف شرط ہے پھر تھوڑی دیر کے لئے تنازعہ ہوتا رہا اور آخر کار یہ قرار پایا کہ آئندہ کے لئے مباحثین میں سے کسی کو جواب دینے سے روکا نہ جائے انہیں اختیار ہے کہ جیسا چاہیں جواب دیں ۔ بعد ازاں ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب