جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 502

جنگ مقدّس — Page 146

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۴۴ جنگ مقدس راہ میں سونپ دیا۔ یعنی اپنی زندگی کو خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دیا اور اس کی راہ میں لگا دیا۔ اور وہ بعد وقف کرنے اپنی زندگی کے نیک کاموں میں مشغول ہو گیا اور ہر ایک قسم کے اعمال حسنہ بجالانے لگا پس وہی شخص ہے جس کو اس کا اجر اس کے رب کے پاس سے ملے گا اور ایسے لوگوں پر نہ کچھ ڈر ہے اور نہ وہ کبھی غمگین ہوں گے یعنی وہ پورے اور کامل طور پر نجات پا جائیں گے۔ اس مقام میں اللہ جل شانہ نے عیسائیوں اور یہودیوں کی نسبت فرما دیا کہ جو وہ اپنی اپنی نجات یابی کا دعوی کرتے ہیں وہ صرف ان کی آرزوئیں ہیں اور ان آرزوؤں کی حقیقت جو زندگی کی روح ہے ان میں ہر گز پائی نہیں جاتی بلکہ اصلی اور حقیقی نجات وہ ہے جو اسی دنیا میں اس کی حقیقت نجات یا بندہ کو محسوس ہو جائے اور وہ اس طرح پر ہے کہ نجات یا بندہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تو فیق عطا ہو جائے کہ وہ اپنا تمام وجود خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دے۔ اس طرح پر کہ اس کا مرنا اور جینا اور اس کے تمام اعمال خدا تعالیٰ کے لئے ہو جائیں اور اپنے نفس سے وہ بالکل کھویا جائے اور اس کی مرضی خدا تعالیٰ کی مرضی ہو جائے اور پھر نہ صرف دل کے عزم تک یہ بات محدود رہے بلکہ اس کے تمام جوارح اور اس کے تمام قومی اور اس کی عقل اور اس کا فکر اور اس کی تمام طاقتیں اسی راہ میں لگ جائیں تب اس کو کہا جائے گا کہ وہ محسن ہے یعنی خدمت گاری کا اور فرمانبرداری کا حق بجان لایا جہاں تک اس کی بشریت سے ہو سکتا تھا سو ایسا شخص نجات یاب ہے ۔ جیسا کہ ایک دوسرے مقام میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (س ۸ سور و انعام رکوع ۷ ) کہہ نماز میری اور عبادتیں میری اور زندگی میری اور موت میری تمام اس اللہ کے واسطے ہیں جو رب ہے عالموں کا جس کا کوئی شریک نہیں اور اسی درجہ کے حاصل کرنے کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں اوّل مسلمانوں کا ہوں۔ پھر بعد اس کے اللہ جل شانہ اس نجات کی علامات اپنی کتاب کریم میں لکھتا ہے کیونکہ گو جو کچھ فرمایا گیا وہ بھی ایک حقیقی ناجی کے لئے مابه الامتیاز ہے لیکن چونکہ دنیا کی آنکھیں اس باطنی نجات اور وصول الی اللہ کو دیکھ نہیں سکتیں اور دنیا پر واصل اور غیر واصل کا امر مشتبہ ہو جاتا ہے اسلئے ل الانعام: ۱۶۳ ، ۱۶۴