جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 502

جنگ مقدّس — Page 145

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۴۳ جنگ مقدس صاف لکھی تھی جیسا کہ اس آیت میں ہے کہ دیکھو انسان نیک و بد کی پہچان میں ہم میں سے (۵۶) ایک کی مانند ہو گیا۔ تاہم یہودیوں کی آنکھ میں غفلت کا پردہ تھا اور خداوند نے اس پردہ کو اٹھایا۔ (۹) کلام الہی کی شرح کرنا یہودیوں کا خاص ورثہ نہیں ہے گو وہ انبیاؤں کی اولاد ہیں اور کلام کے امانت دار اور تواتر سے سننے والے۔ کیونکہ ان میں بغض اور تعصب بہت بھر گیا تھا اور جب خداوند یسوع نے یہ فرمایا کہ جو وہ کہتے ہیں سو کرو اور جو کرتے ہیں سو نہ کرو ۔ اس کے معنی صاف یہ ہیں کہ کہنا ان کا الفاظ توریت سے ہے اور کرنا ان کا برخلاف اس کے۔ (۱۰) بدن مسیح کا زوال پذیر ہو یا نہ ہو۔ مگر اس سے کفارہ کا کیا علاقہ ہے فی الحال اور کچھ نہ کہوں گا۔ (باقی آئندہ) و سخط دستخط بحروف انگریزی بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک غلام قا در فصیح پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام بیان حضرت مرزا صاحب میرے کل کے بیان میں نجات کے بارہ میں کچھ لکھنارہ گیا تھا کہ نجات کی حقیقت کیا ہے اور بچے حقیقی طور پر کب اور کس وقت کسی کو کہہ سکتے ہیں کہ نجات پا گیا۔ اب جاننا چاہیے کہ اللہ جل شانہ نے نجات کے بارہ میں قرآن کریم میں یہ فرمایا ہے ۔ وَقَالُوا لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ كَانَ هُودًا اَوْنَطرى تِلْكَ آمَاتُهُمْ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَدِقِيْنَ - بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةَ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ اور کہا انہوں نے کہ ہرگز بہشت میں داخل نہیں ہوگا یعنی نجات نہیں پائے گا مگر وہی شخص جو یہودی ہوگا یا نصرانی ہوگا یہ ان کی بے حقیقت آرزوئیں ہیں کہو لاؤ برہان اپنی اگر تم سچے ہو یعنی تم دکھلاؤ کہ تمہیں کیا نجات حاصل ہو گئی ہے بلکہ نجات اس کو ملتی ہے جس نے اپنا سارا وجود اللہ کی ل البقرة: ١١٣،١١٢