جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 502

جنگ مقدّس — Page 138

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۳۶ جنگ مقدس کا اقرار کیا جیسا کہ جب قیامت کا پتہ ان سے پوچھا گیا تو آپ نے اپنی لاعلمی ظاہر فرمائی اور کہا کہ بجز اللہ تعالیٰ کے قیامت کے وقت کو کوئی نہیں جانتا۔ اب صاف ظاہر ہے کہ علم روح کی صفات میں سے ہے نہ جسم کی صفات میں سے ۔ اگر ان میں اللہ تعالیٰ کی روح تھی اور یہ خود اللہ تعالیٰ ہی تھے تو لاعلمی کے اقرار کی کیا وجہ ۔ کیا خدا تعالیٰ ۵۰ بعد علم کے نادان بھی ہو جایا کرتا ہے۔ پھر متی ۱۹ باب ۶ میں لکھا ہے ۔ دیکھو ایک نے آکے اسے (یعنی مسیح سے) کہا اے نیک استاد میں کونسا نیک کام کروں کہ ہمیشہ کی زندگی پاؤں۔ اس نے اسے کہا تو کیوں نیک مجھے کہتا ہے نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا۔ پھر متنی با میں لکھا ہے کہ زبدی کے بیٹوں کی مانے اپنے بیٹوں کے حضرت مسیح کے دائیں بائیں بیٹھنے کی درخواست کی تو فرمایا اس میں میرا اختیار نہیں۔ اب فرمائیے قادر مطلق ہونا کہاں گیا ۔ قادر مطلق بھی بھی بے اختیار ہو جایا کرتا ہے اور جب کہ اس قدر تعارض صفات میں واقع ہو گیا کہ حضرات حواری تو آپ کو قادر مطلق خیال کرتے ہیں اور آپ قادر مطلق ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔ تو ان پیش کردہ پیشگوئیوں کی کیا عزت اور کیا وقعت باقی رہی جس کے لئے یہ پیش کی جاتی ہیں وہی انکار کرتا ہے کہ میں قادر مطلق نہیں یہ خوب بات ہے۔ پھر مستی میں لکھا ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ مسیح نے تمام رات اپنے بچنے کے لئے دعا کی اور نہایت غمگین اور دلگیر ہو کر اور روروکر اللہ جل شانہ سے التماس کی کہ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے گذر جائے اور نہ صرف آپ بلکہ اپنے حواریوں سے بھی اپنے لئے دعا کرائی جیسے عام انسانوں میں جب کسی پر کوئی مصیبت پڑتی ہے اکثر مسجدوں وغیرہ میں اپنے لئے دعا کرایا کرتے ہیں لیکن تعجب یہ کہ با وجود اس کے کہ خواہ نخواہ قادر مطلق کی صفت ان پر تھوپی جاتی ہے اور ان کے کاموں کو اقتداری سمجھا جاتا ہے۔ مگر پھر بھی وہ دعا منظور نہ ہوئی اور جو تقدیر میں لکھا تھا وہ ہو ہی گیا۔ اب دیکھو اگر وہ قادر مطلق ہوتے تو چاہیے تھا کہ یہ اقتدار اور یہ قدرت کاملہ پہلے ان کو اپنے نفس کے لئے کام آتا۔ جب اپنے نفس کے لئے کام نہ آیا تو غیروں کو ان سے توقع رکھنا ایک طمع خام ہے۔ اب ہمارے اس بیان سے وہ تمام پیشگوئیاں جو ڈ پٹی عبداللہ آتھم صاحب نے پیش کی ہیں رد حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ”متی ۹ باب ۱۶،اے “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)