جنگ مقدّس — Page 137
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۳۵ جنگ مقدس شریعت میں یہ نہیں لکھا ہے کہ میں نے کہا تم خدا ہو جب کہ اس نے انہیں جن کے پاس خدا کا کلام آیا خدا کہا اور ممکن نہیں کہ کتاب باطل ہو تم اسے جسے خدا نے مخصوص کیا اور جہان میں بھیجا کہتے ہو کہ تو کفر بکتا ہے کہ میں نے کہا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں۔ اب منصفین سوچ لیں کہ کیا الزام کفر کا دور کرنے کے لئے اور اپنے آپ کو حقیقی طور پر بیٹا اللہ تعالیٰ کا ثابت کرنے کے لئے یہی جواب تھا کہ اگر میں نے بیٹا کہلایا تو کیا ہرج ہو گیا تمہارے بزرگ بھی خدا کہلاتے رہے ہیں۔ ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب اس جگہ فرماتے ہیں کہ گویا حضرت مسیح ان کے بلوے سے خوفناک ہوکر ڈر گئے اور اصلی جواب کو چھپا لیا اور تقیہ اختیار کیا مگر میں کہتا ہوں کہ کیا یہ ان نبیوں کا کام ہے کہ اللہ جل شانہ کی راہ میں ہر وقت جان دینے کو تیار رہتے ہیں قرآن کریم میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے الَّذِيْنَ يُبَلِّغُونَ رِسَلَتِ اللهِ وَيَخْشَوْنَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إلا اللہ سے یعنی اللہ تعالیٰ کے بچے پیغمبر جو اسکے پیغام پہنچاتے ہیں وہ پیغام رسانی میں کسی سے نہیں ڈرتے پس حضرت مسیح قادر مطلق کہلا کر کمزور یہودیوں سے کیوں کر ڈر گئے ۔ اب اس سے صاف طور پر ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے حقیقی طور پر ابن اللہ ہونے کا یا خدا ہونے کا کبھی دعویٰ نہیں کیا اور اس دعوئی میں اپنے تئیں ان تمام لوگوں کا ہمرنگ قرار دیا اور اس بات کا اقرار کیا کہ انہیں کے موافق یہ دعویٰ بھی ہے تو پھر اس صورت میں وہ پیشگوئیاں جو ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب پیش فرماتے ہیں وہ کیونکر بموجب شرط کے صحیح سمجھی جائیں گی ۔ ایسا تو نہیں کرنا چاہیے کہ مدعی ست گواہ چست حضرت صیح تو کفر کے الزام سے بچنے کے لئے صرف یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ میری نسبت اسی طرح بیٹا ہونے کا لفظ بولا گیا ہے جس طرح تمہارے بزرگوں کی نسبت بولا گیا ہے گویا یہ فرماتے ہیں کہ میں تو اس وقت قصور وار اور مستوجب کفر ہوتا کہ خاص طور پر بیٹا ہونے کا دعویٰ کرتا۔ بیٹا کہلانے اور خدا کہلانے سے تمہاری کتابیں بھری پڑی ہیں دیکھ لو۔ پھر حضرت مسیح نے صرف اسی پر بس نہیں کی بلکہ آپ نے کئی مقامات انجیل میں اپنی انسانی کمزوریوں الاحزاب : ٤٠