جنگ مقدّس — Page 136
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۳۴ جنگ مقدس اپنی کتابوں کی نسبت ہے کہ تم مجھے کا فر ٹھہراتے ہو تمہاری کتابیں ہی تو مجھے خدا بنا رہی ہیں اور قادر مطلق بتلا رہی ہیں پھر میں کافر کیونکر ہوا بلکہ تمہیں تو چاہیے کہ اب میری پرستش اور پوجا شروع کر دو کہ میں خدا ہوں۔ پھر دوسرا ثبوت یہ دینا چاہیے تھا کہ آؤ خدائی کی علامتیں مجھ میں دیکھ لو جیسے خدا تعالیٰ نے آفتاب ماہتاب ۔ سیارے۔ زمین وغیرہ پیدا کیا ہے۔ ایک قطعہ زمین کا یا کوئی ستارہ یا کوئی اور چیز میں نے بھی پیدا کی ہے اور اب بھی پیدا کر کے دکھلا سکتا ہوں اور نبیوں کے معمولی معجزات سے بڑھ کر مجھ میں قوت اور قدرت حاصل ہے۔ اور مناسب تھا کہ اپنے خدائی کے کاموں کی ایک مفصل فہرست ان کو دیتے کہ دیکھو آج تک یہ یہ کام میں نے خدائی کے کئے ہیں۔ کیا حضرت موسیٰ سے لے کر تمہارے کسی آخری نبی تک ایسے کام کسی اور نے بھی کئے ہیں اگر ایسا ثبوت دیتے تو یہودیوں کا منہ بند ہو جاتا اور اسی وقت تمام فقیہ اور فریسی آپ کے سامنے سجدہ میں گرتے کہ ہاں حضرت ! ضرور آپ خدا ہی ہیں ہم بھولے ہوئے تھے۔ آپ نے اس آفتاب کے مقابل پر جو ابتدا سے چمکتا ہوا چلا آتا ہے اور دن کو روشن کرتا ہے اور اس ماہتاب کے مقابل پر جو ایک خوبصورت روشنی کے ساتھ رات کو طلوع کرتا ہے اور رات کو منور کر دیتا ہے آپ نے ایک آفتاب اور ایک ماہتاب اپنی طرف سے بنا کر ہم کو دکھلا دیا ہے اور کتا بیں کھول کر اپنی خدائی کا ثبوت ہماری مقبولہ مسلمہ کتابوں سے پیش کر دیا ہے۔ اب ہماری کیا مجال ہے کہ بھلا آپ کو خدا نہ کہیں جہاں خدا نے اپنی قدرتوں کے ساتھ حجتی کی وہاں عاجز بندہ کیا کر سکتا ہے لیکن حضرت مسیح نے ان دونوں ثبوتوں میں سے کسی ثبوت کو بھی پیش نہ کیا۔ اور پیش کیا تو ان عبارتوں کو پیش کیا سن لیجئے۔ تب یہودیوں نے پھر پتھر اٹھائے کہ اس پر پتھراؤ کریں۔ یسوع نے انہیں جواب دیا کہ میں نے اپنے باپ کے بہت سے اچھے کام تمہیں دکھائے ہیں ان میں سے کس کام کے لئے تم مجھے پتھراؤ کرتے ہو۔ یہودیوں نے اسے جواب دیا کہ ہم تجھے اچھے کام کے لئے نہیں بلکہ اس لئے تجھے پتھراؤ کرتے ہیں کہ تو کفر کہتا ہے اور انسان ہو کے اپنے تئیں خدا بناتا ہے۔ یسوع نے انہیں جواب دیا کہ کیا تمہاری