جنگ مقدّس — Page 121
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۱۹ جنگ مقدس دوم ۔ انجیل اپنے تئیں نجات کے ازلی بھید کا کاشف کہتی ہے۔ (رومی ۱۶ باب ۲۵ و ۲۶) (پطرس کا پہلا خط ا۔ باب ۲۰) ۔ سوم ۔ انجیل اپنے تئیں خدا کی قدرت کہتی ہے۔ ( رومی ایک باب ۱۶)۔ چہارم ۔ انجیل اپنے تئیں زندگی اور بقا کی روشنی کرنے والی کہتی ہے (طمطاؤس کا دوسرا خط اباب ۱۶) پنجم ۔ انجیل انسانی حکمت کا نہیں لیکن اپنے تئیں خدا کی روح کا فرمایا ہوا کلام فرماتی ہے۔ ( قرنتیوں کے نام کا پہلا خط ۲ باب ۱۲ و ۱۳ و پطرس کا دوسرا خط پہلا باب ۱۹) ششم ۔ اس انجیل کے مقابل میں ہر ایک انجیل پیچ ہے ( گلاتی کے نام کا خط اباب ۸ ) پس یہ وہ امور ہیں کہ جو کلام اللہ کی فضیلت و کاملیت و خوبی وفیض رسانی پر دال ہیں نہ وہ امور جو معاشرت کے متعلق ہیں کہ جن کی نسبت حکیم وڈاکٹر بھی انسان کو واجبی شرح بتا سکتے ہیں۔ جناب نے جو فرمایا قرآن میں لکھا ہے اکملت لكم دينكم غالبا بروئے متن کلام قرآن متعلق معاشرت کے ہے کہ جس میں حق و حرمت کا ذکر ہے۔ بجواب اعتراضات ۲۴ مئی ۱۸۹۳ء اول۔ استقراء کے معنے ہم سمجھ چکے ہیں کہ معمول اور گذشتہ پیوستہ میں جو تجربہ قانون بتاتا ہے اس کو استقراء کہتے ہیں۔ اس کے بارہ میں جناب مرزا صاحب کا فرمانا درست ہے کہ اگر کچھ استثناء اس کا ہو تو امکان محض اس کا ثابت کرنا کافی نہیں ہے مگر واقعی اس کا ثابت کرنا ضروری ہے۔ سو اس کے بارہ میں عرض اتنی ہے کہ مقدمہ مسیح کا بالکل استثنائی ہے جس کی واسطے ہم نے آیات کلام الہی پیش کی ہیں ۔ مزید برآں ہم یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ کثرت فی الوحدت عہد عتیق میں موجود ہے اگر وہ موجود نہ ہوتی تو یہودی صادق ٹھہر سکتے تھے اور چونکہ یہ امر وہاں موجود ہے تو ان کو کچھ عذر نہ ہونا چاہئے۔ پس میں بطور مثال دو نظیر میں ۳۵) پیش کرتا ہوں ۔ اوّل یہ کہ پیدائش اباب ۲۶ میں لکھا ہے و یـومـر الـوهـيـم نعشا آدام سلمنو قد میتونو یعنی کہا الو ہیم خدا نے ہم بناویں آدم کو اوپر صورتوں اپنیوں کے اور اوپر شکلوں اپنیوں کے ۔ دوم پیدائش ہی میں ہے یہوا الوہیم نے کہا دیکھو انسان نیک و بد کی پہچان میں ہم میں سے ایک کی