جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 502

جنگ مقدّس — Page 106

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۰۴ جنگ مقدس یسعیا ۶ باب اسے ۱۲ بمقابلہ یوحتا ۱۲ باب ۴۰، ۴۱۔ اعمال ۲۸ باب ۲۶ ۔ پھر یسعیا ۴۰ باب ۳ ملا کی ۳ باب ابمقابلہ منتی ۳ باب۳ زکریا ۱۲ باب اوه ا بمقابلہ یوحتا ۹ باب ۳۷۔ سر میا ۳۱ باب ۳۱ - ۳۴ بمقابلہ عبرانی ۸ باب ۶ سے ۱۲۔ عبرانی ۱۰ باب ۱۲ سے ۱۹ ۔ خروج ۷ ا باب ۲ گنتی ۲۰ باب ۳ و ۴ گفتی ۲۱ باب ۴ و ۵ - استثنا ۶ باب ۱۶۔ یہ چاروں مقام بمقابلہ پہلا قرنتی ، باب ۹ سے۔ 1 یسعیا ا باب ۴ ۴۴ باب ۶ بمقابلہ مکاشفات ۸ ۱ و ۲ و ۳ و ۳ و یوئیل سے بمقابلہ رومی 1۔ ۱۰۱۴ ΥΛ وم و یسعیا ہے وہ بمقابلہ متی سالم زبان عبرانی سے جس امر کی آپ گرفت کریں موجود ہے ابھی پیش کیا جائے گا۔ چوتھا۔ لفظ کمال کی جو جناب گرفت فرماتے ہیں کہ انجیل درخود کامل ہونی چاہئے تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ کس امر میں کامل ۔ کیا سنار کے کام میں یا لوہار کے کام میں؟ یہ تو دعوئی ہی ان کتابوں کا نہیں مگر راہ نجات کے دکھلانے کے کام میں یہ دعوئی ان کا ہے۔ انجیل نے جو اس باب میں اپنا کمال دکھلایا وہ ہم پیش کر دیتے ہیں۔ چنانچہ لکھا ہے کہ آسمان کے تلے آدمیوں کو کوئی دوسرا نام نہیں بخشا گیا جس سے ہم نجات پاسکیں سوائے مسیح کے لے“۔ اور رومیوں کے خط میں لکھا ہے اگر نجات فضل سے ہے تو عمل عمل نہیں و اگر نجات عمل سے ہے تو فضل فضل نہیں۔ اس سے پھر وہی امر ثابت ہوا کہ مسیح نے خود کہا کہ راہ حق اور زندگی میں ہی ہوں ( یوحنا ۴ باب ۶)۔ اور یا درکھنا چاہیے کہ کلام الہی میں اکثر خداوند یہ فرمایا کرتا (۲۱) ہے کہ میں ہی ہوں۔ میں ہوں۔ اور اس کا ایماء اس نام پر ہے جو موسیٰ سے خدا نے کہا کہ میرا نام میں ہوں ۔ سو ہوں اور اس نام سے میں پہلے معروف نہ تھا۔ یہ تجھ کو جتایا جاتا ہے۔ (خروج ۳ باب ۱۴ آیت) ( قلت وقت کے سبب جواب نا تمام رہا) ( دستخط بحروف انگریزی ) ہنری مارٹن کلارک ( دستخط بحروف انگریزی) غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام اعمال الرسل باب ۴ آیت ۱۲۔ (ناشر)