جنگ مقدّس — Page 100
روحانی خزائن جلد ۶ ۹۸ جنگ مقدس رکھتا تھا کہ مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب جو پہلے سے یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ انجیل درحقیقت ایک کامل کتاب ہے وہ اس دعوے کے ساتھ ضرور اس بات کو مانتے ہوں گے کہ انجیل اپنے دعاوی کو معقولی ۱۵ طور پر آپ پیش کرتی ہے۔ لیکن صاحب موصوف کے کل کے جواب سے مجھے بہت تعجب اور افسوس بھی ہوا کہ صاحب موصوف نے اس طرف ذرا توجہ نہیں فرمائی بلکہ اپنے جواب کی دفعہ ششم میں مجھ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ آپ نے قرآن سے جو استدلال کیا ہے مجھے افسوس ہے کہ میں اب تک اس کے الہامی ہونے کا قائل نہیں جب آپ اس کو الہامی ثابت کر کے قائل کر دیں گے تو اس کی سندات آپ ہی مانی جائیں گی۔ اب ہر ایک سوچنے والا غور کر سکتا ہے کہ میرا یہ منشاء کب تھا کہ وہ ہر ایک بات قرآن شریف کی بے تحقیق مان لیں۔ میں نے تو یہ لکھا تھا یعنی میرا یہ منشاء تھا کہ دلائل عقلیہ جو فریقین کی طرف سے پیش ہوں وہ اپنے ہی خیالات کے منصوبوں سے پیش نہیں ہونی چاہیں بلکہ چاہیے کہ جس کتاب نے اپنے کامل ہونے کا دعوی کیا ہے وہ دعوی بھی یہ تصریح ثابت کر دیا جاوے اور پھر وہی کتاب اس دعوی کے ثابت کرنے کے لئے معقولی دلیل پیش کرے اور اس طور کے التزام سے جو کتاب اخیر پر غالب ثابت ہوگی اس کا یہ اعجاز ثابت ہو گا۔ کیونکہ قرآن شریف صاف فرماتا ہے کہ میں کامل کتاب ہوں جیسا کہ فرماتا ہے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي ( سیپارہ ۶ رکوع ۵) اور جیسا کہ پھر دوسری جگہ فرماتا ہے إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ ( سیپارہ ۱۵ رکوع ) دونوں آیتوں کا ترجمہ یہ ہے کہ آج میں نے دین تمہارا تمہارے لئے کامل کیا اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کیا۔ اور یہ قرآن ایک سیدھے اور کامل راہ کی طرف رہبری کرتا ہے یعنی رہبری میں کامل ہے اور رہبری میں جو لوازم ہونے چاہئیں دلائل عقلیہ اور برکات سماویہ میں سے وہ سب اس میں موجود ہیں اور حضرات عیسائی صاحبوں کا یہ خیال ہے کہ انجیل کامل کتاب ہے اور رہبری کے تمام لوازم انجیل میں موجود ہیں پھر جب کہ یہ بات ہے تو اب دیکھنا ضرور ہوا کہ اپنے دعوی میں صادق کون ہے۔ اسی بنا پر الوہیت حضرت مسیح کے دلائل بھی جو معقولی طور پر ہوں انجیل سے پیش کرنے چاہیں تھے جیسا کہ قرآن کریم نے ابطال الوہیت کے دلائل معقولی طور پر بھی علاوہ اور دلائل کے المائدة : بنی اسرائیل:۱۰