جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 502

جنگ مقدّس — Page 93

روحانی خزائن جلد ۶ ۹۱ جنگ مقدس ان تحریرات پر بھروسہ کر کے کہ جن کے بصورت صحت بھی ہیں ہیں معنے ہو سکتے ہیں وہ معنی اختیار کرے جو حقائق ثابت شدہ سے بالکل مغائر اور منافی پڑے ہوئے ہیں مثلاً اگر ایک ڈاکٹر ہی سے اس بات کا تذکرہ ہو کہ سم الفار اور وہ زہر جو تلخ بادام سے تیار کیا جاتا ہے اور بیش یہ تمام زہریں نہیں ہیں۔ اور اگر ان کو دو دوسیر کے قدر بھی انسان کے بچوں کو کھلایا جاوے تو کچھ ہرج نہیں۔ اور اس کا ثبوت یہ دیوے کہ فلاں مقدس کتاب میں ایسا ہی لکھا ہے اور راوی معتبر ہے تو (9) کیا وہ ڈاکٹر صاحب اس مقدس کتاب کا لحاظ کر کے ایک ایسے امر کو چھوڑ دیں گے جو قیاس استقرائی سے ثابت ہو چکا ہے۔ غرض جب کہ قیاس استقرائی دنیا کے حقائق ثابت کرنے کے لئے اول درجہ کا مرتبہ رکھتا ہے تو اسی جہت سے اللہ جل شانہ نے سب سے پہلے قیاس استقرائی کو ہی پیش کیا اور فرمایا قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ، یعنی حضرت مسیح علیہ السلام بیشک نبی تھے اور اللہ جل شانہ کے پیارے رسول تھے مگر وہ انسان تھے۔ تم نظر اٹھا کر دیکھو کہ جب سے یہ سلسلہ تبلیغ اور کلام الہی کے نازل کرنے کا شروع ہوا ہے ہمیشہ اور قدیم سے انسان ہی رسالت کا مرتبہ پا کر دنیا میں آتے رہے ہیں یا کبھی اللہ تعالی کا بیٹا بھی آیا ہے اور حلت کا لفظ اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ جہاں تک تمہاری نظر تاریخی سلسلہ کو دیکھنے کے لئے وفا کر سکتی ہے اور گذشتہ لوگوں کا حال معلوم کر سکتے ہو خوب سوچو اور سمجھو کہ کبھی یہ سلسلہ ٹوٹا بھی ہے۔ کیا تم کوئی ایسی نظیر پیش کر سکتے ہو جس سے ثابت ہو سکے کہ یہ ام ممکنات میں سے ہے۔ پہلے بھی بھی بھی ہوتا ہی آیا ہے۔ سو عقلمند آدمی اس جگہ ذرہ ٹھہر کر اور اللہ جل شانہ کا خوف کر کے دل میں سوچے کہ حادثات کا سلسلہ اس بات کو چاہتا ہے کہ اس کی نظیر بھی بھی کسی زمانہ میں پائی جاوے۔ ہاں اگر بائبل کے وہ تمام انبیاء اور صلحاء جن کی نسبت بائبل میں بھی الفاظ موجود ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے بیٹے تھے یا خدا تھے حقیقی معنوں پر حمل کر لئے جاویں تو بیشک اس صورت میں ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ خدائے تعالیٰ کی عادت ہے کہ وہ بیٹے بھی بھیجا کرتا ہے بلکہ بیٹے کیا کبھی کبھی بیٹیاں بھی ۔ اور بظاہر یہ دلیل تو عمدہ معلوم ہوتی ہے اگر حضرات عیسائی صاحبان اس کو پسند فرماویں اور کوئی اس کو تو ڑ بھی نہیں سکتا کیونکہ حقیقی غیر حقیقی کا تو وہاں کوئی ذکر ہی نہیں بلکہ بعض کو تو پہلوٹا ہی لکھ دیا۔ المآئدة: ۷۶