جنگ مقدّس — Page 91
روحانی خزائن جلد ۶ ۸۹ سوال الوہیت مسیح پر ۲۲ رمئی ۱۸۹۳ء بسم اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جنگ مقدس الحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ والسَّلامُ عَلَى رَسُولِهِ مُحَمَّدٍ مَّا لِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِيْنَ اما بعد واضح ہو کہ بموجب شرائط قرار داده پر چہ علیحدہ مورخه ۲۳ را پریل ۱۸۹۳ء پہلا سوال ہماری طرف سے یہ تجویز ہوا تھا کہ ہم الوہیت حضرت مسیح علیہ السلام کے بارہ میں مسٹر عبداللہ آتھم صاحب سے سوال کریں گے۔ چنانچہ مطابق اسی شرط کے ذیل میں لکھا جاتا ہے۔ واضح ہو کہ اس بحث میں یہ نہایت ضروری ہوگا کہ جو ہماری طرف سے کوئی سوال ہو یا ڈپٹی عبداللہ آتھم کی طرف سے کوئی جواب ہو وہ اپنی طرف سے نہ ہو بلکہ اپنی اپنی الہاتی کتاب کے حوالہ سے ہو جس کو فریق ثانی حجت سمجھتا ہو ۔ اور ایسا ہی ہر ایک دلیل آور ہر ایک دعوئی جو پیش کیا جاوے وہ بھی اسی التزام سے ہو۔ غرض کوئی فریق اپنی اس کتاب کے بیان سے باہر نہ جائے جس کا بیان بطور حجت ہو سکتا ہے۔ بعد اس کے واضح ہو کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کے بارہ میں قرآن کریم میں بغرض رد کر نے خیالات ان صاحبوں کے جو حضرت موصوف کی نسبت خدایا ابن اللہ کا اعتقاد ر کھتے ہیں یہ آیات موجود ہیں ۔ ما المشيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَانهُ صِدِّيقَة كانا يأكلن الطعام أنْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنَ لَهُمُ الآيتِ ثُمَّ القرالى يُؤفكون --ط سیپارہ ۶ ۱۴ یعنی حضرت مسیح ابن مریم میں اس سے زیادہ کوئی بات نہیں کہ وہ صرف ایک رسول ہے اور اس سے پہلے بھی رسول ہی آتے رہے ہیں اور یہ کلمہ کہ اس سے پہلے بھی رسول ہی آتے رہے ہیں۔ یہ قیاس استقرائی کے طور پر ایک استدلال لطیف ہے کیونکہ قیاسات کے جمیع اقسام میں سے استقراء کا مرتبہ وہ اعلیٰ شان کا المائدة : ٧٦