جلسہٴ احباب — Page 288
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۸۶ جلسه احباب (۲) ایک بڑی دعوت کا سامان ہوا۔ اور اس قصبہ کے غربا اور درویش دعوت کے لئے بلائے گئے اور جیسا کہ شادیوں کے موقع پر کھانے پکائے جاتے ہیں ایسا ہی بڑے تکلف سے کھانے طیار ہوئے اور تمام حاضرین کو کھلائے گئے ۔ اس روز تین سو سے زیادہ آدمی تھے جو دعوت میں شریک ہوئے پھر ۲۲ جون کی رات کو چراغاں ہوئی اور کو چوں اور گلیوں اور مسجدوں اور گھروں میں شام ہوتے ہی نظر گاہ عام پر چراغ روشن کرائے گئے اور غریبوں کو اپنے پاس سے تیل دیا گیا اور علاوہ اس کے اظہار مسرت کے لئے عام دعوت میں لوگوں کو شامل کیا گیا۔ غرض یہ مبارک جلسہ تمام احباب کا جنہوں نے بڑی خوشی سے با ہم چندہ کر کے اس کا اہتمام کیا ۔ ۲۰ / جون ۷ ۱۸۹ء سے شروع ہوا اور ۲۲ جون ۱۸۹۷ ء کی شام تک بڑی دھوم دھام سے اس کا اہتمام رہا چنانچہ پہلے روز میں تمام جماعت نے جو ہمارے مریدوں کی جماعت ہے جن کے ذیل میں نام درج ہوں گے بڑے صدق دل سے حضور قیصرہ اور خاندان شاہی اور برٹش گورنمنٹ کے حق میں اقبال اور شمول فضل الہی کی دعائیں کیں اور پھر جیسا کہ بیان کیا گیا وقتا فوقتا تمام مراسم ادا کئے گئے اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہماری جماعت نے جس میں معز ز ملازم سرکاری بھی شامل تھے ایسے صدق دل اور محبت اور پوری ارادت اور پورے شوق اور انبساط سے دعائیں کیں اور شکر گزاری ظاہر کی اور اہتمام غرباء کی دعوت میں چندے دیئے اور ایک رقم کثیر باہمی چندہ سے جمع کر کے بڑی سرگرمی اور مستعدی اور دلی خوشی سے تمام تجاویز جنرل کمیٹی کو انجام تک پہنچایا کہ اس سے بڑھ کر خیال میں نہیں آ سکتا۔ اور وہ تقریر جو دعا اور شکر گذاری جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند میں سنائی گئی جس پر لوگوں نے بڑی خوشی سے آمین کے نعرے مارے وہ چھ زبانوں میں بیان کی گئی تا ہمارے پنجاب کے ملک میں جس قدر مسلمان