ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 644
۔آسماں کا حکم مَیں زمین تک پہنچاتا ہوں۔اگر میں اُسے سنوں اور لوگوں کو نہ سناؤں تو اسے کہاں لے جاؤں صفحہ ۱۸۲۔اے میری قوم میری باتوں سے آزردہ نہ ہو شروع ہی میں ایسا جوش نہ دکھا بلکہ آخر تک میرا حال دیکھ۔میں خود یہ بات نہیں کہتا بلکہ لوحِ محفوظ میں ہی ایسا لکھا ہے اگر تجھ میں طاقت ہے تو خدا کے لکھے ہوئے کو مٹا دے۔میں اپنی قوم کے باعث حیرت اور فکر کی مصیبت میں ہوں اے میرے رب مہربانی فرما کہ میں اس پریشانی سے بے قرار ہوں۔نہ اُن کی آنکھیں باقی ہیں، نہ کان اور نہ دل کی روشنی سوائے ایک زبان کے جس کی ایک دِرم بھی قیمت نہیں۔ان لوگوں نے مجھے بُرا کہنا عبادت سمجھ رکھا ہے۔ان کی نظروں میں مَیں ہر کذاب سے زیادہ پلید ہوں۔تا ہم اے دل تو ان لوگوں کا لحاظ رکھ۔کیونکہ آخر میرے پیغمبر کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں۔اے وہ جو فرشتہ کے پیام اور خدا کی آواز کا منکر ہے۔غلطی مجھ میں نہیں بلکہ تجھ میں ہے۔اے عزیز! میری جان تیرے ایمان کے غم میں گھل گئی مگر عجیب بات یہ ہے کہ تیرے خیال میں مَیں کافر ہوں۔اگر تو چاہتا ہے کہ ہماری سچائی کی حقیقت تجھ پر روشن ہو جائے تو اسی مہربان ذات سے دل کی روشنی مانگ۔میرا خیال کسی کو کافر بنانے کی طرف کب ہے میں تو اپنے محبوب کی عنایتوں کے جام سے سرشار ہوں۔دشمنوں کے طعن کا مجھ پر کیا اثر ہو سکتا ہے۔میں تو دوست کے تصور میں مدہوش ہوں۔میں تو اس خدا کی وحی کے سہارے جیتا ہوں جو میرے ساتھ ہے اس کا الہام میرے لئے زندگی بخش سانس کی طرح ہے صفحہ ۱۸۳۔میں نے تو اپنے دوست کے گھر میں ڈیرہ ڈال دیا ہے پس تو اس اندھیرے جہان کے متعلق مجھ سے کچھ نہ پوچھ۔اُس کا عشق میرے دل کے رگ وریشہ میں داخل ہو گیا ہے اور اس کی محبت راہ دین میں میرے لئے چمکتا ہوا سورج بن گئی ہے۔اگر میری اور اُس کی محبت کا راز ظاہر ہو جاتا۔تو بہت سی خلقت میرے دروازہ پر اپنی جانیں قربان کر دیتی۔دنیا دار لوگ میرے بھید کو نہیں جانتے میں نے اپنے نور کو چمگادڑوں کی آنکھوں سے چھپا رکھا ہے