ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 596 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 596

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۹۶ ازالہ اوہام حصہ دوم (۱۰۷) سید احمد خان صاحب کے سی ۔ ایس ۔ آئی کا الہام کی نسبت خیال اور ہماری طرف سے جیسا کہ واقعی امر ہے اُس کا بیان فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْم | الآخر ذلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا - الجزوه - آیت موصوفہ بالا کا ترجمہ یہ ہے کہ اے مسلمانو! اگر کسی بات میں تم میں باہم نزاع واقعہ ہو تو اس امر کو فیصلہ کے لئے اللہ اور رسول کے حوالہ کر اگر تم اللہ اور آخری دن پر ایمان لاتے ہو تو یہی کرو کہ یہی بہتر اور احسن تاویل ہے۔ اب جاننا چاہیے کہ سید صاحب نے الہام کے بارہ میں اپنے پر چہ علی گڑھ گزٹ میں قرآن اور حدیث کے برخلاف رائے ظاہر کی ہے چنانچہ ان کی تحریر کا خلاصہ ذیل میں لکھا جاتا ہے اور وہ یہ ہے جو بات یکا یک دل میں آجاوے گو کسی امر سے متعلق ہو وہ الہام (۹۸) ہے۔ بشرطیکہ کوئی تعلیم یا تعریف یا بیان اس طرف کو لے جانے والا نہ ہو۔ اس قسم کے الہامات کوئی عجیب شے نہیں ہیں بلکہ اکثروں کو ہوتے ہیں ۔ منطقی کو منطق میں فلسفی کو فلسفہ میں ۔ طبیب کو علم طب اور تشخیص امراض میں ۔ اہل حرفہ کو اپنے حرفہ میں وغیرہ ذالک۔ یہاں تک کہ وہ اسلام اور غیر اسلام پر بھی منحصر نہیں بلکہ اس قسم کے الہامات ایک امر طبیعی انسان کا ہے جس میں اسلام کی ضرورت نہیں۔ ہاں ایسی خلقت کی ضرورت ہے کہ الہام ہونے کی قابلیت رکھتی ہو۔ الہام سے شاید بعض حالتوں میں اس شخص کو جس کو الہام ہوا ہو کوئی طمانیت قلبی حاصل ہوتی ہو مگر اس سے کوئی ایسا نتیجہ جو دوسروں کو فائدہ پہنچانے والا یقین دلانے والا تسکین بخشنے والا یا اُس واقعہ کی واقعیت اور اصلیت کو ثابت کرنے والا ہو پیدا نہیں ہوسکتا۔ سلسلہ الہامات کا زیادہ تر عرفانیات سے علاقہ رکھتا ہے جو محض تخیلات ہیں ا النساء : ٦٠