ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 595 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 595

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۹۵ ازالہ اوہام حصہ دوم تا جس کے شامل حال نصرت الہی ہو جاوے اور قبولیت کے آسمانی نشان اس کے لئے خدا کی طرف سے ظاہر ہوں وہ اس علامت سے لوگوں کی نظر میں اپنی قبولیت کے ساتھ شناخت کیا جاوے۔ اور جھوٹے کی ہر روزہ کشمکش سے لوگوں کو فراغت اور راحت حاصل ہو۔ اس کے جواب میں مولوی صاحب موصوف اپنے اشتہار یکم اگست ۱۸۹۱ء میں لکھتے ہیں کہ یہ درخواست اُس وقت مسموع ہوگی کہ جب تم اول اپنے عقائد کا عقائد اسلام ہونا ثابت کرو گے غیر مسلم ( یعنی جو مسلمان نہیں ) خواہ کتنا ہی آسمانی نشان دکھاوے اہل اسلام اس کی طرف (۹۰) التفات نہیں کرتے۔ اب ناظرین انصافاً فرما دیں کہ جس حالت میں اسی ثبوت کے لئے درخواست کی گئی تھی کہ تا ظاہر ہو جاوے کہ فریقین میں سے حقیقی اور واقعی طور پر مسلمان کون ہے پھر قبل از ثبوت ایک مسلمان کو جو لا اله الا الله محمد رسول اللہ کا قائل اور معتقد ہو غیر مسلم کہنا اور لَسْتَ مُسْلِمًا کر کے پکارنا کس قسم کی مسلمانی اور ایمانداری ہے۔ ماسوا اس کے اگر یہ عاجز بزعم مولوی محمد حسین صاحب کا فر ہے۔ تو خیر وہ یہ خیال کر لیں کہ میری طرف سے جو ظاہر ہوگا وہ استدراج ہے۔ پس اس صورت میں بمقابل اس استدراج کے اُن کی طرف سے کوئی کرامت ظاہر ہونی چاہیے اور ظاہر ہے کہ کرامت ہمیشہ استدراج پر غالب آتی ہے۔ آخر مقبولوں کو ہی آسمانی مددملتی ہے۔ اگر میں بقول اُن کے مردود ہوں اور وہ مقبول ہیں تو پھر ایک مردود کے مقابل پر اتنا کیوں ڈرتے ہیں۔ اگر میں بقول ان کے کافر ہونے کی حالت میں کچھ دکھاؤں گا تو وہ بوجہ اولی دکھلا سکتے ہیں مقبول جو ہوئے ۔ کہ مقبول را رد نباشد شن و من عادى لي وليا فقد أذنته للحرب ۔ ابن صیاد نے اگر کچھ دکھایا تھا تو کیا اس کے مقابل پر معجزات نبوی ظاہر نہیں ہوئے تھے اور کیا دجال کے ساحرانہ کاموں کے مقابل پر عیسی کے نشان مروی نہیں۔ ففروا این تفرون