ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 585 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 585

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۸۵ ازالہ اوہام حصہ دوم اس کے ذمہ ہوگا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلا ہو۔ اور بجز موت اور قبض روح کے اس کے کوئی اور معنے ہوں۔ اور امام محمد اسماعیل بخاری نے اس جگہ اپنی صحیح میں ایک لطیف نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے جس سے معلوم ہوا کہ کم سے کم سات ہزار مرتبہ تَوَفّی کا لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے بعثت کے بعد اخیر عمر تک نکلا ہے۔ اور ہر یک لفظ تَوَفَّی کے معنے قبض روح اور موت تھی۔ سو یہ نکتہ بخاری کا منجملہ ان نکات کے ہے جن سے حق کے طالبوں کو امام بخاری کا مشکور و ممنون ہونا چاہیے۔ اور منجملہ افادات امام بخاری کے جس کا ہمیں شکر کرنا چاہیے ایک یہ ہے کہ انہوں نے ﴿۸۸۹ مسیح ابن مریم کی وفات کے بارہ میں ایک قطعی فیصلہ ایسا دے دیا ہے جس سے بڑھ کر متصور نہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ امام بخاری نے اپنی صحیح کے کئی حصوں میں سے جن کا نام اُس نے خاص خاص غرضوں کی طرف منسوب کر کے کتاب رکھا ہے۔ ایک حصہ کو کتاب التفسیر کے نام سے نامزد کیا ہے۔ کیونکہ اس حصہ کے لکھنے سے اصل غرض یہ ہے کہ جن آیات قرآن کریم کی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ تفسیر و تشریح کی ہے یا اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے اُن آیات کی بحوالہ قول نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تفسیر کر دی جائے ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ اسی غرض سے آیہ کریمہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ کو کتاب التفسیر میں لایا ہے۔ اور اس ایراد سے اُس کا منشاء یہ ہے کہ تا لوگوں پر ظاہر کرے که توفیتنسی کے لفظ کی صحیح تغییر وہی ہے ۔ جس کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ فرماتے ہیں یعنی مار دیا اور وفات دے دی اور حدیث یہ ہے عن ابن عباس انه لف يجاء برجال من امتى فيؤخذبهم ذات الشمال فاقول يا رب اصیحابی فیقال (۸۹۰ انک لا تدرى ما احدثوا بعدك فاقول كماقال العبد الصالح وكنت عليهم | شهيدًا ما دمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم - صفحه ۶۶۵ بخاری ۶۹۳ بخاری یعنی قیامت کے دن میں بعض لوگ میری اُمت میں سے آگ کی طرف المائدة : ١١٨