ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 584
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۸۴ ازالہ اوہام حصہ دوم ذوی الروح کی طرف منسوب کر کے کن کن معنوں میں استعمال کرتے تھے ۔ آیا یہ لفظ اس وقت اُن کے روز مرہ محاورات میں کئی معنوں پر استعمال ہوتا تھا یا صرف ایک ہی معنے قبض روح اور موت کے لئے مستعمل تھا۔ سو اس تحقیقات کے لئے مجھے بڑی محنت کرنی پڑی اور ان (۸۸۷) تمام کتابوں صحیح بخاری ۔ صحیح مسلم - ترندی ۔ ابن ماجہ ۔ ابو داؤد۔ نسائی ۔ دارمی ۔ موطا ۔ شرح السنہ وغیرہ وغیرہ کا صفحہ صفحہ دیکھنے سے معلوم ہوا کہ ان تمام کتابوں میں جو داخل مشکوۃ ہیں تین سو چھیالیس مرتبہ مختلف مقامات میں توفی کا لفظ آیا ہے اور ممکن ہے کہ میرے شمار کرنے میں بعض توفی کے لفظ رہ بھی گئے ہوں لیکن پڑھنے اور زیر نظر آ جانے سے ایک بھی لفظ با ہر نہیں رہا۔ اور جس قدر وہ الفاظ توفی کے ان کتابوں میں آئے ہیں ۔ خواہ وہ ایسا لفظ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلا ہے یا ایسا ہے جو کسی صحابی نے منہ سے نکالا ہے تمام جگہ وہ الفاظ موت اور قبض روح کے معنے میں ہی آئے ہیں۔ اور چونکہ میں نے ان کتابوں کو بڑی کوشش اور جانکاہی سے سطر سطر پر نظر ڈال کر دیکھ لیا ہے۔ اس لئے میں دعوی سے اور شرط کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہر یک جگہ جو توفی کا لفظ ان کتابوں کی احادیث میں آیا ہے اس کے بجہ موت اور قبض روح کے اور کوئی معنے نہیں۔ اور ان کتابوں سے بطور استقراء کے ثابت ہوتا ہے کہ بعد بعثت اخیر عمر تک جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہے کبھی آنحضرت صلی اللہ ۸۸۸ علیہ وسلم نے تَوَفَّی کا لفظ بغیر معنی موت اور قبض روح کے کسی دوسرے معنی کے لئے ہرگز استعمال نہیں کیا اور نہ کبھی دوسرے معنی کا لفظ زبان مبارک پر جاری ہوا۔ اور کچھ شک نہیں کہ استقراء بھی ادله یقینیہ میں سے ہے بلکہ جس قدر حقائق کے ثابت کرنے کے لئے استقراء سے مدد ملی ہے اور کسی طریق سے مدد نہیں ملی مثلاً ہمارے ان یقینیات کی بناء جو عموماً تمام انسانوں کی ایک زبان ہوتی ہے اور دو آنکھ اور عمر انسان کی عموماً اس حد سے تجاوز نہیں کر سکتی۔ اور اناج کی قسموں میں سے چنا اس انداز کا ہوتا ہے اور گیہوں کا دانہ اس انداز کا۔ یہ سب یقینیات استقراء سے معلوم ہوئے ہیں۔ پس جوشخص اس استقراء کا انکار کرے تو ایسا کوئی لفظ سوفسی کا پیش کرنا