ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 568
۵۶۸ روحانی خزائن جلد ۳ ازالہ اوہام حصہ دوم اس عہد شکنی پر بھی تعرض کرنا مناسب نہ سمجھا تا گریز اور التواء بحث کے لئے ان کو کوئی حیلہ نہ ہاتھ آ جائے۔ وہ قسم کھا کر بیان کریں میں قبول کرلوں گا کہ کیا اُن کی اس عہد شکنی سے پہلے کوئی ایک ذرہ خلاف عہد بات مجھ سے بھی ظہور میں آئی۔ اور اگر چہ مجھے خوب معلوم تھا کہ ایک غیر ضروری بحث طول پکڑتی جاتی ہے اور باوجودیکہ امور مستنفسرہ کا جواب شافی کافی دیا گیا ہے پھر بھی مولوی صاحب صرف اصل بحث کو ٹالنے کی غرض سے تمہیدی امور کی بے سود دم کھینچتے چلے جاتے ہیں لیکن میں اس بات سے ڈرتا ہی رہا کہ اگر میں نے کچھ بھی بات کی تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مولوی صاحب ایک بہانہ تراش کر اپنے گھر کی طرف سدھاریں گے حاضرین مجلس جو میرے اور مولوی صاحب کے مباحثات کو دیکھتے رہے محض اللہ شہادت دے سکتے ہیں کہ میں نے اُن کی سخت زبانیوں پر بھی جو میرے بالمواجہ اُن سے ظہور میں آتی رہیں بہت صبر کیا اور ہر ایک وقت جو انہوں نے میرا نام جاہل یا نادان رکھا تو میں نے اپنے دل کو سمجھایا کہ سچ تو ہے بجز خدا وند علیم مطلق کے کون ہے جو دانا کہلا سکتا ہے اور اگر انہوں نے مجھے مفتری کہا تو میں نے اپنے دل کو تسلی دی کہ پہلے بھی خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں کو یہی کہا گیا ہے۔ اور اگر انہوں نے مجھے کا ذب کا ذب کر کے پکارا تو میں نے اپنے دل پر قرآن کریم (۱۲۰) کی آیتیں عرض کیں کہ دیکھ پہلے راستباز بھی کا ذب کا ذب کر کے پکارے گئے ہیں ۔ غرض اسی طرح میں نے صبر سے گیاراں روز گزارے اور شہر میں اُن کی بد زبانی کا شور پڑ گیا۔ اور جس روز انہوں نے چھہتر صفحہ کا جواب سنایا اور بہت کچھ بد زبانی اور چالا کی کی باتیں خارج از تحریر بیان کیں تو اُس وقت میں نے ایک مجمع کثیر کے رو بروجس میں اُن کے خاص دوست مولوی محمد حسن صاحب رئیس لود یا نہ بھی تھے انہیں کہہ دیا کہ آج پھر آپ نے عہد شکنی کی اور خارج از تحریر زبانی وعظ کرنا شروع کر دیا۔ اب مجھے بھی حق حاصل ہے کہ میں بھی اپنے مضمون سنانے کے وقت کچھ زبانی وعظ بھی کروں لیکن باوجودیکہ مجھے یہ حق حاصل ہو گیا تھا پھر بھی میں نے جواب سنانے کے وقت اس حق سے بجز ایک دو کلمہ کے کچھ فائدہ نہیں اُٹھایا