ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 564 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 564

۵۶۴ روحانی خزائن جلد ۳ ازالہ اوہام حصہ دوم اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت اُن کا مغلوب نہیں ہوگا اگر چہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔ سوم یہ کہ بلا ناغہ پنجوقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہے گا اور حتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اور ہر روز اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا اور دلی محبت سے خدائے تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اس کی حمد اور تعریف کو ہر روزہ اپنا ورد بنائے گا۔ چہارم یہ کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی ۸۵۳ نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔ نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے ۔ پنجم یہ کہ ہر حال رنج اور راحت اور عسر اور میر اور نعمت اور بلا میں خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کرے گا اور بہر حالت راضی بقضا ہوگا۔ اور ہر یک ذلت اور دکھ کے قبول کرنے کے لئے اس کی راہ میں طیار رہے گا اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اس سے منہ نہیں پھیرے گا بلکہ آگے قدم بڑھائے گا۔ ششم یہ کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آئے گا اور قرآن شریف کی حکومت کو بکلی اپنے سر پر قبول کرلے گا اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنی ہر یک راہ میں دستور العمل قرار دے گا۔ ہفتم یہ کہ تکبر اور نخوت کو بکلی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اور حلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔ ہشتم یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی اولاد اور اپنے ہر یک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔ تم یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض اللہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خدا داد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔ دہم یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض الله با قرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تا وقت مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہوگا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔ یہ وہ شرائط ہیں کہ جو بیعت کرنے والوں کے لئے ضروری ہیں جن کی تفصیل یکم دسمبر ۱۸۸۸ء