ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 559 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 559

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۵۹ ازالہ اوہام حصہ دوم بقيد ولدیت و سکونت مستقل و عارضی طور معہ کسی قدر کیفیت کے (اگر ممکن ہو ) اندراج یادیں اور پھر جب وہ اسماء مندرجہ کسی تعداد موزوں تک پہنچ جائیں تو اُن سب ناموں کی ایک فہرست تیار کر کے اور چھپوا کر ایک ایک کاپی اس کی تمام بیعت کرنے والوں کی (۸۴۷) خدمت میں بھیجی جائے اور پھر جب دوسرے وقت میں نئی بیعت کرنے والوں کا ایک معتد بہ گروہ ہو جاوے تو ایسا ہی اُن کے اسماء کی بھی فہرست تیار کر کے تمام مبائعین یعنی داخلین بیعت میں شائع کی جائے اور ایسا ہی ہوتا رہے جب تک ارادہ الہی اپنے اندازہ مقدر تک پہنچ جائے۔ یہ انتظام جس کے ذریعہ سے راستبازوں کا گروہ کثیر ایک ہی سلک میں منسلک ہو کر وحدت مجموعی کے پیرا یہ میں خلق اللہ پر جلوہ نما ہو گا اور اپنی سچائی کے مختلف المخرج شعاعوں کو ایک ہی خط ممتد میں ظاہر کرے گا ۔ خدا وند عز و جل کو بہت پسند آیا ہے مگر چونکہ یہ کارروائی بجز اس کے بآسانی وصحت انجام پذیر نہیں ہو سکتی که خود مبایعین اپنے ہاتھ سے خوشخط قلم سے لکھ کر اپنا تمام پستہ ونشان بتفصیل مندرجہ بالا بھیج دیں۔ اس لئے ہر ایک صاحب کو جو صدق دل اور خلوص تام سے بیعت کرنے کے لئے اور وہ مشکلوتی نور دل میں پیدا ہو جاوے کہ جو عبودیت اور ربوبیت کے باہم تعلق شدید سے پیدا ہوتا ہے جس کو متصوفین دوسرے لفظوں میں روح قدس بھی کہتے ہیں جس کے پیدا ہونے کے بعد خدائے تعالیٰ کی نافرمانی ایسی بالطبع بُری معلوم ہوتی ہے جیسی وہ خود خدائے تعالیٰ کی نظر میں بُری و مکروہ ہے اور نہ صرف خلق اللہ سے انقطاع میسر آتا ہے بلکہ بجز خالق و مالک حقیقی ہر یک موجود کو کالعدم سمجھ کر فنا نظری کا درجہ حاصل ہوتا ہے سو اس نور کے پیدا ہونے کے لئے ابتدائی اتقا جس کو طالب صادق اپنے ساتھ لاتا ہے شرط ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی علت غائی بیان کرنے میں فرمایا ہے هُدًى للمتقين یہ نہیں فرمایا که هدى للفاسقين يا هُدًى للكافرين ابتدائی تقویٰ جس کے حصول سے متقی کا لفظ انسان پر صادق آسکتا ہے ۔ وہ ایک فطرتی حصہ ہے کہ جو سعیدوں کی خلقت میں رکھا گیا ہے اور ربوبیت اولیٰ اس کی مربی اور وجود بخش ہے جس سے متقی کا