ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 558 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 558

روحانی ختنه ائن جلد ۳ ۵۵۸ ازالہ اوہام حصہ دوم وقت مسلمان ہو چکا تھا اور بوجہ مشرف باسلام ہونے کے اس لائق تھا کہ اس کے بیان کو عزت اور اعتبار کی نظر سے دیکھا جائے۔ واللہ اعلم بالصواب وهذا آخر ما اردنا فى هذا الباب والحمد لله اولا واخرا واليه المرجع والمآب بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی گزارش ضروری بخدمت اُن صاحبوں کے جو بیعت کرنے کے لئے مستعد ہیں اے اخوان مومنین ایدكم الله بروح منه - آپ سب صاحبوں پر جو اس عاجز (۸۴۵) سے خالصاً لطلب اللہ بیعت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں واضح ہو کہ بالقائے رب کریم * وجلبیل ( جس کا ارادہ ہے کہ مسلمانوں کو انواع و اقسام کے اختلافات اور غل اور حقد اور نزاع اور فساد اور کینہ اور بغض سے جس نے اُن کو بے برکت و نکما و کمزور کر دیا ہے نجات دے کر فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِةِ اِخْوَانًا کا مصداق بنا دے) مجھے معلوم ۸۴۲ ہوا ہے کہ بعض فوائد و منافع بیعت کہ جو آپ لوگوں کے لئے مقدر ہیں اس انتظام پر موقوف ہیں کہ آپ سب صاحبوں کے اسماء مبارکہ ایک کتاب میں تاریخ فھذا سے جو ۴ مارچ ۱۸۸۹ء ہے ۲۵ / مارچ تک یہ عاجز لود ہیانہ محلہ جدید میں مقیم ہے اس عرصہ میں اگر کوئی صاحب آنا چاہیں تو لود بیانہ میں ۲۰ تاریخ کے بعد آجاویں اور اگر اس جگہ آنا موجب حرج و دقت ہو تو ۲۵ / مارچ کے بعد جس وقت کوئی چاہے قادیان میں بعد اطلاع دہی بیعت کرنے کے لئے حاضر ہو جاوے مگر جس مدعا کے لئے بیعت ہے یعنی حقیقی تقویٰ اختیار کرنا اور سچا مسلمان بننے کے لئے کوشش کرتا ۔ اس مدعا کو خوب یا در کھے۔ اور اس وہم میں نہیں پڑنا چاہیے کہ اگر تقولی اور سچا مسلمان بننا پہلے ہی سے شرط ہے تو پھر بعد اس کے بیعت کی کیا حاجت ہے بلکہ یا درکھنا چاہیے کہ بیعت اس غرض سے ہے کہ تا وہ تقویٰ کہ جو اؤل حالت میں تکلف اور تصنع سے اختیار کی جاتی ہے دوسرا رنگ پکڑے اور ہبرکت توجہ صادقین و جذ بہ کاملین طبیعت میں داخل ہو جائے اور اس کا جز بن جائے آل عمران : ۱۰۴