ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 557
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۵۷ ازالہ اوہام حصہ دوم مثیل نکلے گا اور مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ تمیم داری کا خیال تو یہ تھا کہ دجال بحر شام میں ہے یعنی اس طرف کسی جزیرہ میں کیونکہ تمیم نصرانی ہونے کے زمانہ میں اکثر ملک شام کی طرف جاتا تھا لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال کو رد کر دیا اور فرمایا کہ وہ مشرق کی کسی خاص طرف سے نکلے گا اور ممالک مشرقیہ میں ہندوستان داخل ہے۔ اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ اس خبر تمیم داری کی تصدیق کے بارے میں ایسے الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے ہر گز نہیں نکلے جو اس بات پر دلالت کرتے ہوں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تمیم داری کے دجال کا وجود یقین کر لیا تھا بلکہ اس بات کی تصدیق پائی جاتی ہے کہ دجال مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ میں داخل نہیں ہوگا ۔ ماسوا اس کے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ تصدیق وحی کی رو سے ہے اور جاننے والے اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ آنحضرت صلعم جو اخبار و حکایات بیان کردہ تصدیق کرتے تھے اس کے لئے یہ ضرور نہیں ہوتا تھا کہ وہ تصدیق وحی کی رو سے ہو بلکہ بسا اوقات محض مخبر کے اعتبار کے خیال سے تصدیق کر لیا کرتے تھے ۔ چنانچہ کئی دفعہ یہ اتفاق ہوا ہوگا کہ آنحضرت صلعم نے کسی مخبر کی خبر کو صحیح سمجھا اور (۸۴۳) بعد ازاں وہ خبر غلط نکلی بلکہ بعض وقت ایک مخبر کے اعتبار پر یہ خیال کیا گیا کہ دشمن چڑھائی کرنے والا ہے اور پیش قدمی کے طور پر اس پر چڑھائی کر دی گئی لیکن آخر کا ر وہ خبر غلط نکلی ۔ انبیاء لوازم بشریت سے بالکل الگ نہیں کئے جاتے ۔ ہاں وحی الہی کے پہنچانے میں محفوظ اور معصوم ہوتے ہیں۔ سو یہ قصہ تمیم داری والا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا ہر گز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وحی کی رو سے آنحضرت صلعم نے اس قصہ کی تصدیق کی اور حدیث میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں کہ اس خیال پر دلالت کر سکے۔ پس صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت صلعم کے الفاظ سے جس قدر تصدیق اس قصہ کی پائی جاتی تھی وہ تصدیق وحی کی رو سے ہرگز نہیں بلکہ محض عقلی طور پر اعتبار راوی کے لحاظ سے ہے کیونکہ تمیم داری اس قصہ کے بیان کرنے کے