ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 555
روحانی خزائن جلد ۳ ازالہ اوہام حصہ دوم تو مرزا غلام احمد صاحب ایک عجیب وجیہ حسین اور شاندار صورت میں تشریف رکھتے ہیں۔ یہ (۸۳۹) خواب میں نے حافظ عبد الغنی صاحب سے جو تر اوڑی میں ایک مسجد کا امام ہے بیان کی تھی اور میرزا صاحب نے ابھی مسیح ہونے کا دعویٰ مشتہر نہیں کیا تھا۔ ۔ یہ شہادتیں ہیں جو رسالہ کے ختم ہونے کے بعد ہم کو ملیں۔ ایسا ہی ایک اعتراض بھی اس رسالہ کے ختم ہونے کے بعد پیش کیا گیا اور وہ یہ ہے کہ اگر مسیح دجال کے گدھے سے مراد یہی ریل گاڑی ہے تو اس ریل پر تو نیک و بد دونوں سوار ہوتے ہیں بلکہ جس کو مسیح موعود ہونے کا دعوی ہے وہ بھی سوار ہوتا ہے پھر یہ دجال کا گدھا کیوں کر ہو گیا۔ جواب یہ ہے کہ بوجہ ملکیت اور قبضہ اور تصرف تام اور ایجاد و جالی گروہ کے یہ دجال کا گدھا کہلاتا ہے۔ اور اگر عارضی طور پر کوئی اس سے نفع اٹھاوے تو اس سے وہ اس کا مالک یا موجود ٹھہر نہیں سکتا۔ خر دجال کی اضافت ملکی ہے۔ پھر اگر خدا تعالیٰ دجال کی مملوکات و مصنوعات میں سے بھی مومنوں کو نفع پہنچا وے تو اس میں کیا حرج ہے۔ کیا انبیاء کفار کی مملوکات و مصنوعات سے نفع نہیں اُٹھاتے تھے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر خچر کی سواری کرتے تھے حالانکہ احادیث نبویہ سے ثابت ہوتا ہے کہ گدھے سے گھوڑی کو ملانا ممنوع ہے۔ ایسے ہی بہت نمونے پائے جاتے (۸۴۰) ہیں ۔ ماسوا اس کے جبکہ مسیح موعود قاتل دجال ہے یعنی روحانی طور پر تو بموجب حدیث من قتل قتیلا کے جو کچھ دجال کا ہے وہ صیح کا ہے۔ علاوہ اس کے مسلم کی حدیث میں جو ابو ہریرہ سے مروی ہے عیسی کے آنے کی یہ نشانیاں لکھی ہیں لینز لن ابن مریم حكمًا عدلًا فليكسرن الصليب وليقتلن الخنزير وليضعن الجزية وليتركن القلاص فلا يسعى عليها یعنی عیسی حکم اور عدل ہونے کی حالت میں اُترے گا اس طرح پر کہ مسلمانوں کے اختلافات پر حق کے ساتھ حکم کرے گا اور عدل کو زمین پر قائم کر دے گا صلیب کو توڑے گا خنزیروں کو قتل کرے گا اور جزیہ کو اُٹھا دے گا اور اس کے آنے کا ایک یہ نشان ہوگا