ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 550 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 550

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۵۰ ازالہ اوہام حصہ دوم بلکہ چاہیے کہ تو آنکھیں بند کر کے اپنے تئیں ٹھوکر سے بچاوے تا تیری دلی پاکیزگی میں کچھ فرق نہ آوے۔ سوتم اپنے مولی کے اس حکم کو خوب یا د رکھو اور آنکھوں کے زنا سے اپنے تئیں بچاؤ اور اس ذات کے غضب سے ڈرو جس کا غضب ایک دم میں ہلاک کر سکتا ہے۔ قرآن شریف یہ بھی فرماتا ہے کہ تو اپنے کانوں کو بھی نامحرم عورتوں کے ذکر سے بچا اور ایسا ہی ہر یک نا جائز ذکر سے ۔ مجھے اس وقت اس نصیحت کی حاجت نہیں کہ تم خون نہ کرو کیونکہ بجز نہایت شریر آدمی کے کون ناحق کے خون کی طرف قدم اٹھاتا ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ نا انصافی پر ضد کر کے سچائی کا خون نہ کرو۔ حق کو قبول کر لوا گرچہ ایک بچہ سے اور اگر مخالف کی طرف حق پاؤ تو پھر فی الفور اپنی خشک منطق کو چھوڑ دو۔ سچ پر ٹھہر جاؤ اور سچی گواہی دو جیسا کہ اللہ جل شانه فرماتا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ کے یعنی بتوں کی ۸۳۲ پلیدی سے بچو اور جھوٹ سے بھی کہ وہ بت سے کم نہیں۔ جو چیز قبلہ حق سے تمہارا منہ پھیرا ہے وہی تمہاری راہ میں بت ہے۔ سچی گواہی دو اگر چہ تمہارے باپوں یا بھائیوں یا دوستوں پر ہو۔ چاہیے کہ کوئی عداوت بھی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو۔ با ہم بجل اور کینہ اور حسد اور بغض اور بے مہری چھوڑ دو اور ایک ہو جاؤ ۔ قرآن شریف کے حکم ہے ے بڑے علم دو ہی ہیں ۔ ایک توحید و محبت و اطاعت باری عزاسمه - دوسری ہمدردی اپنے بھائیوں اور اپنے بنی نوع کی ۔ اور ان حکموں کو اس نے تین درجہ پر منقسم کیا ہے جیسا کہ استعداد یں بھی تین ہی قسم کی ہیں اور وہ آیت کریمہ یہ ہے۔ اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبى -ے۔ پہلے طور پر اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ تم اپنے خالق کے ساتھ اس کی اطاعت میں عدل کا طریق مرعی رکھو ظالم نہ بنو۔ پس جیسا کہ در حقیقت بجز اس کے کوئی بھی پرستش کے لائق نہیں ۔ کوئی بھی محبت کے لائق نہیں کوئی بھی تو کل کے لائق نہیں کیونکہ بوجہ خالقیت اور قیومیت در بوبیت خاصہ کے الحج : ٣١ النحل : ٩١