ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 541 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 541

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۴۱ ازالہ اوہام حصہ دوم اور کیوں کر دعاؤں کے قبول ہونے سے خارق عادت نشان ظہور میں آئے۔ شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پوری کے ابتلاءاور نزول بلا کی خبر جو پورے چھ مہینہ پہلے شیخ صاحب کو بذریعہ خط دی گئی تھی اور پھر اُن کے انجام بخیر ہونے کی بشارت جو حکم سزائے موت کی حالت میں ﴿۸۱۵ اُن کو پہنچائی گئی تھی۔ یہ سب باتیں حامد علی کی چشم دید ہیں بلکہ اس پیشگوئی پر بعض نادان اس سے لڑتے اور جھگڑتے رہے کہ اس کا پورا ہونا غیر ممکن ہے۔ ایسا ہی دلیپ سنگھ کے رو کے جانے کی پیشگوئی اور کئی دوسری پیشگوئیاں اور نشان جو صبح صادق کی طرح ظاہر ہو گئیں اس شخص کو معلوم ہیں جن کا خدائے تعالیٰ نے اس کو گواہ بنا دیا ہے ۔ اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر اس کو نشان دکھائے گئے وہ ایک طالب حق کا ایمان مضبوط کرنے کے لئے ایسے کافی ہیں کہ اس سے بڑھ کر حاجت نہیں ۔ حامد علی بے شک ایک مخلص ہے مگر فطرتی طور پر اشتعال طبع اس میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ صبر اور ضبط کی عادت ابھی اس میں کم ہے۔ ایک غریب اور ادنی مزدور کی سخت بات پر برداشت کرنا ہنوز اس کی طاقت سے باہر ہے۔ غصہ کے وقت کسی قدر جبائرہ کا رگ وریشہ نمودار ہو جاتا ہے۔ کاہلی اور کسل بھی بہت ہے مگر متدین اور متقی اور وفا دار ہے ۔ خدائے تعالیٰ اس کی کمزوری کو دور کرے۔ آمین ۔ حامد علی صرف تین روپے مجھ سے تنخواہ پاتا ہے اور اس میں سے اس سلسلہ کے چندہ کے لئے ۴ ربطیب خاطر محض للہی شوق سے ادا کرتا ہے اور حبی فی اللہ شیخ چراغ علی چچا اس کا اس کی تمام خوبیوں میں ﴿۸۱۶ اس کا شریک ہے اور یک رنگ اور بہادر ہے۔ (۳۵) حبسی فی الله شیخ شہاب الدین موحد شیخ شہاب الدین غریب طبع اور مخلص اور نیک خیال آدمی ہے ۔ نہایت تنگدستی اور عسر سے اس مسافر خانہ کے دن پورے کر رہا ہے۔ افسوس کہ اکثر دولت مند مسلمانوں نے زکوۃ دینا بھی چھوڑ دیا اور شریعت اسلامی کا یہ پر حکمت مسئلہ کہ يؤخذ من الاغنياء ويرد الى الفقراء يوني معطل