ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 540
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۴۰ ازالہ اوہام حصہ دوم بیمار ہیں خدا تعالیٰ اُن کو جلد شفا بخشے ۔ آمین ثم آمین۔ (۸۳) (۳۳) حبى فى الله مولوی غلام حسن صاحب پشاوری اس وقت اودھیا نہ میں میرے پاس موجود ہیں۔ محض ملاقات کی غرض سے پشاور سے تشریف لائے ہیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ وفادار تخلص ہیں اور لَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لائِم میں داخل ہیں جوش ہمدردی کی راہ سے دور و پیہ ماہواری چندہ دیتے ہیں مجھے امید ہے کہ وہ بہت جلد الہی راہوں اور دینی معارف میں ترقی کریں گے کیونکہ فطرت نورانی رکھتے ہیں۔ (۳۴) حبی فی اللہ شیخ حامد علی ۔ یہ جوان صالح اور ایک صالح خاندان کا ہے اور قریبا سات آٹھ سال سے میری خدمت میں ہے اور میں یقینا جانتا ہوں کہ مجھ سے اخلاص اور محبت رکھتا ہے۔ اگر چہ دقائق تقوی تک پہنچنا بڑے عرفاء اور صلحاء کا کام ہے مگر جہاں تک سمجھ ہے اتباع سنت اور رعایت تقویٰ میں مصروف ہے۔ میں نے اس کو دیکھا ہے کہ ایسی بیماری میں جو نہایت شدید اور مرض الموت معلوم ہوتی تھی اور ضعف اور لاغری سے میت کی طرح ہو گیا تھا۔ التزام ادائے نماز پنجگانہ میں ایسا سرگرم تھا کہ اس بے ہوشی اور نازک حالت میں جس ۸۱۳) طرح بن پڑے نماز پڑھ لیتا تھا۔ میں جانتا ہوں کہ انسان کی خدا ترسی کا اندازہ کرنے کے لئے اس کے التزام نماز کو دیکھنا کافی ہے کہ کس قدر ہے اور مجھے یقین ہے کہ جو شخص پور۔ پورے اہتمام سے نماز ادا کرتا ہے اور خوف اور بیماری اور فتنہ کی حالتیں اس کو نماز سے روک نہیں سکتیں وہ بے شک خدائے تعالیٰ پر ایک سچا ایمان رکھتا ہے مگر یہ ایمان غریبوں کو دیا گیا دولتمند اس نعمت کو پانے والے بہت ہی تھوڑے ہیں ۔ شیخ حامد علی نے خدائے تعالی کے فضل و کرم سے اس عاجز کے کئی نشان دیکھے ہیں اور چونکہ وہ سفر و حضر میں ہمیشہ میرے ساتھ ہی رہتا ہے اس لئے خدائے تعالیٰ اس کے لئے ایسے اسباب پیدا کرتا رہا اور وہ اپنی آنکھ سے دیکھتا رہا کہ کیوں کر خدائے تعالیٰ کی عنایتیں اس طرف رجوع کر رہی ہیں