ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 536 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 536

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۳۶ ازالہ اوہام حصہ دوم غالب ہے۔ کسی کے راستباز ثابت ہونے سے وہ جان تک بھی فرق نہیں کر سکتے اور کسی کو ناراستی پر دیکھ کر اس سے مداہنت کے طور پر کچھ تعلق رکھنا نہیں چاہتے ۔ اوائل میں وہ اس عاجز کی نسبت نہایت نیک گمان تھے مگر درمیان میں ابتلا کے طور پر اُن کے حسن ظن میں فرق آگیا۔ چونکہ سعید تھے اس لئے عنایت الہی نے پھر دستگیری کی اور اپنے خیالات سے تو بہ کر ۸۰۶ کے سلسلہ بیعت میں داخل ہوئے۔ اُن کا ایک دفعہ نیک ظنی کی طرف پلٹا کھانا اور جوش سے بھرے ہوئے اخلاص کے ساتھ حق کو قبول کر لینا غیبی جذبہ سے معلوم ہوتا ہے۔ وہ اپنے اشتہار ۱۲ / اپریل ۱۸۹۱ء میں اس عاجز کی نسبت لکھتے ہیں کہ میں اُن کے حق میں بدگمان تھا لہذا وقتا فوقتا نفس و شیطان نے خدا جانے کیا کیا مجھ سے اُن کے حق میں کہوا یا جس پر آج مجھ کو افسوس ہے اگر چہ اس عرصہ میں کئی بار میرے دل نے مجھے شرمندہ کیا لیکن اس کے اظہار کا یہ وقت مقد رتھا۔ میں نے جو کچھ مرزا صاحب کو فقط اپنی غلط فہمیوں کے سبب سے کہا نہایت بُرا کیا۔ اب میں تو بہ کرتا ہوں اور اس تو بہ کا اعلان اس لئے دیتا ہوں کہ میری پیروی کے سبب سے کوئی وبال میں نہ پڑے۔ اس سے بعد اگر کوئی شخص میری کسی تحریر یا تقریر کو چھپوا دے اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہے تو میں عند اللہ بری ہوں اور اگر کبھی میں نے مرزا صاحب کی نسبت اپنے کسی دوست سے کچھ کہا ہو یا شکایت کی ہو تو اس سے اللہ تعالی کی جناب میں معافی مانگتا ہوں۔ (۲۴) حتى فى الله منشی رستم علی ڈپٹی انسپکٹر پولیس ریلوے ۔ یہ ایک جوان صالح ۸۰۷) اخلاص سے بھرا ہوا میرے اوّل درجہ کے دوستوں سے ہے۔ اُن کے چہرے پر ہی علامات غربت و بے نفسی واخلاص ظاہر ہیں۔ کسی ابتلاء کے وقت میں نے اس دوست کو متزلزل نہیں پایا اور جس روز سے ارادت کے ساتھ انہوں نے میری طرف رجوع کیا اس ارادت میں قبض اور افسردگی نہیں بلکہ روز افزوں ہے۔ وہ دو روپیہ چندہ اس سلسلہ کے لئے دیتے ہیں۔ جزاهم الله خير الجزاء۔