ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 535
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۳۵ ازالہ اوہام حصہ دوم میری طرف لمبا کر دیا۔ میں نے حضرت کے قدم مبارک کو بوسہ دیا اور آنکھوں سے لگایا اُس وقت حضرت نے ایک جوراب سوتی اپنے پاک مبارک سے اُتار کر مجھ کو عنایت فرمائی ۔ اس رویا صادقہ سے میں بہت متلذ ذ رہا۔ پھر دو برس کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ میں لودھیانہ میں ﴿۸۰۴ آیا اور میں نے آپ کا یعنی اس عاجز کا شہرہ سنا اور رات کو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہی جلسہ دیکھا اور وہی کثرت مخلوق دیکھی جو میں نے حضرت نبی کریم کی خواب میں دیکھی تھی۔ اور جب میں نے آپ کی صورت دیکھی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی صورت ہے کہ جس صورت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے خواب میں دیکھا تھا۔ تب مجھے یقین ہو گیا کہ میں نے آپ ہی کو خواب میں دیکھا تھا اور خدائے تعالیٰ نے آپ کو نبی کریم کے پیرایہ میں میرے پر ظاہر کیا تا وہ عینیت جو ببرکت متابعت پیدا ہو جاتی ہے میرے پر منکشف ہو جائے ۔ پھر جب میں پانچ چھ ماہ کے بعد آپ کو قادیان میں ملا تو میری حالت اعتقاد بہت ترقی کر گئی اور مجھ کو کامل و مکمل یقین کہ عین الیقین کا مرتبہ حاصل ہو گیا کہ بلا شبہ آپ مجدد الوقت اور غوث الوقت ہیں اور میرے پر پورے عرفان کے ساتھ کھل گیا کہ میرے خواب کے مصداق آپ ہی ہیں۔ پھر اس کے بعد اور بھی حالات نوم اور غیر نوم میں میرے پر کھلتے رہے۔ ایک دفعہ استخارہ کے وقت آپ کی نسبت یہ آیت نکلی مَعَهُ رِبْيُّونَ كَثِيرٌ لو تب میں بیعت سے بصدق دل مشرف ہوا اور وہ حالات جو میرے پر کھلے اور میرے دیکھنے میں آئے وہ (۴۸۰۵ ان شاء اللہ ایک رسالہ میں لکھوں گا۔ (۲۳) حبّي في الله میر ناصر نواب صاحب ۔ میر صاحب موصوف علا وہ رشتہ روحانی کے رشتہ جسمانی بھی اس عاجز سے رکھتے ہیں کہ اس عاجز کے خسر ہیں ۔ نہایت یک رنگ اور صاف باطن اور خدا تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہیں اور اللہ اور رسول کی اتباع کو سب چیز سے مقدم سمجھتے ہیں اور کسی سچائی کے کھلنے سے پھر اس کو شجاعت قلبی کے ساتھ بلا توقف قبول کر لیتے ہیں ۔ حب اللہ اور بغض اللہ کا مومنانہ شیوہ اُن پر ہید اول ایڈیشن میں "پاک" ہے لیکن درست پائے " لگتا ہے۔ (مصحح) لا ال عمران :۱۳۷