ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 525
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۲۵ ازالہ اوہام حصہ دوم اس عاجز کے تائید دعوی میں بکمال متانت و خوش اسلوبی لکھا ہے جس کے پڑھنے سے ناظرین سمجھ لیں گے کہ مولوی صاحب موصوف علوم دینیہ میں کس قدر محقق اور وسیع النظر اور مدقق آدمی ہیں انہوں نے نہایت تحقیق اور خوش بیانی سے اپنے رسالہ میں کئی قسم کے معارف بھر دئے ہیں۔ ناظرین اس کو ضرور دیکھو۔ (۷) حتى فى الله مولوی عبد الغنی صاحب معروف مولوی غلام نبی خوشابی دقیق فہم اور حقیقت شناس ہیں اور علوم عربیہ تازہ بتازہ ان کے سینہ میں موجود ہیں اوائل میں مولوی صاحب موصوف سخت مخالف الرائے تھے۔ جب ان کو اس بات کی خبر پہنچی کہ یہ عاجز مسیح موعود (۷۸۲ ہونے کا دعوی کر رہا ہے اور مسیح ابن مریم کی نسبت وفات کا قائل ہے تب مولوی صاحب میں پورانے خیالات کے جذبہ سے ایک جوش پیدا ہوا اور ایک عام اشتہار دیا کہ جمعہ کی نماز کے بعد اس شخص کے رد میں ہم وعظ کریں گے۔ شہر اودھانہ کے صد با آدمی وعظ کے وقت موجود ہو گئے ۔ تب مولوی صاحب اپنے علمی زور سے بخاری اور مسلم کی حدیثیں بارش کی طرح لوگوں پر برسانے لگے اور صحاح ستہ کا نقشہ پرانی لکیر کے موافق آگے رکھ دیا۔ اُن کے وعظ سے سخت جوش مخالفت کا تمام شہر میں پھیل گیا کیونکہ ان کی علمیت اور فضیلت دلوں میں مسلم تھی لیکن آخر سعادت از لی کشاں کشاں اُن کو اس عاجز کے پاس لے آئی اور مخالفانہ خیالات سے تو بہ کر کے سلسلہ بیعت میں داخل ہوئے۔ اب اُن کے پرانے دوست اُن سے سخت ناراض ہیں مگر وہ نہایت استقامت سے اس شعر کے مضمون کا ورد کر رہے ہیں ؎ حضرت ناصح جو آویں دیدہ و دل فرش راہ پر کوئی مجھ کو تو سمجھاوے کہ سمجھاویں گے کیا (۸) حتى في الله نواب محمد علی خان صاحب رئیس خاندان ریاست مالیر کوٹلہ ۔ ۷۸۷ سید نواب صاحب ایک معزز خاندان کے نامی رئیس ہیں۔ مورث اعلیٰ نواب صاحب موصوف کے شیخ صدر جہاں ایک باخدا بزرگ تھے جو اصل باشندہ جلال آباد سروانی قوم کے