ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 507
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۰۷ ازالہ اوہام حصہ دوم موجود ہے پھر مسیح کے جسم میں کون سی انوکھی بات ہے تا کوئی منصف یقین کر لیوے کہ مسیح تو جسم خاکی عنصری رکھتا ہے مگر ابراہیم کا نورانی جسم ہے۔ ہاں اگر یہ ثابت ہو جائے کہ مسیح کے جسم میں خا کی جسم کے لوازم موجود ہیں جیسے روٹی کھانا، پانی پینا، پیشاب کرنا، پاخانہ پھرنا وغیرہ وغیرہ اور ابراہیم کے جسم میں یہ لوازم موجود نہیں تو بھلا پھر کون ہے کہ اس ثبوت کے بعد پھر برسر انکار رہے لیکن اب تک یہ ثبوت نہ عیسائی لوگ پیش کر سکے اور نہ مسلمانوں میں سے کسی نے پیش کیا بلکہ دونوں فریق کو صاف اقرار ہے کہ مسیح کی زندگی دوسرے نبیوں کی زندگی سے صاف متحد الحقیقت اور ہمرنگ اور ایک ذرہ ما بہ الامتیاز درمیان نہیں ۔ پھر بھلا ہم کیوں کر مان لیں کہ مسیح کسی نیا لے جسم کے ساتھ آسمان پر بیٹھا ہے اور دوسرے سب بغیر جسم کے ہیں۔ ہم کو محض جبر اور تحکم کی راہ سے یہ سنایا جاتا ہے کہ اسی بات پر تمام امت کا ﴿۷۵۵﴾ اجماع ہے لیکن جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ سلف اور خلف کا تو کسی ایک بات پر اتفاق ہی نہیں تو ہم کیوں کر قبول کر لیں کہ ہاں اجماع ہی ہے۔ بھلا اگر مسیح کی زندگی پر کسی کا اجماع ہے تو ایک قول تو دکھلاؤ جس میں سلف کے لوگوں نے مسیح کی زندگی ایک دنیوی زندگی قرار دی ہو اور دنیوی زندگی کے لوازم اُس میں قبول کر لئے ہوں اور دوسروں کو اس سے باہر رکھا ہو بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس بات پر تمام خلف وسلف کا اجماع معلوم ہوتا ہے کہ مسیح اس عالم کو چھوڑ کر دوسرے عالم کے لوگوں میں جاملا ہے اور بلا کم و بیش انہیں کی زندگی کے موافق اس کی زندگی ہے گو بعض نے نادانی سے مسیح کی موت سے انکار کیا ہے مگر با وجود اس کے قبول کر لیا ہے کہ وہ مرنے والے لوگوں کی طرح اس عالم کو چھوڑ گیا ہے اور اس جماعت میں جا ملا جو مر گئے ہیں اور بکلی اُن کے رنگ میں ہو گیا۔ بھلا کوئی دانشمند اُن سے پوچھے کہ اگر یہ موت نہیں تو اور کیا ہے جس نے دُنیا کے عالم کو چھوڑ دیا اور دوسرے عالم میں جا پہنچا اور دنیا کے لوگوں کو چھوڑ دیا اور دوسرے جہان کے لوگوں میں سے