ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 488 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 488

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۸۸ ازالہ اوہام حصہ دوم لا بد انشاء الله ان ينزل عيسى عليه السلام فی حیاتی وانظر ہ بعینی یعنی میں جو محمد ابن احمد مکی رہنے والا خاص مکہ معظمہ محلہ شعب عامر کا ہوں کہتا ہوں کہ میں نے ۱۳۰۵ ہجری میں خواب میں دیکھا کہ ایک جگہ میرا باپ کھڑا ہے اور میں اس کے ساتھ ہوں اس وقت جو میں نے مشرق کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ عیسی علیہ السلام آسمان سے اُتر آیا اور میں ارادہ کر رہا ہوں کہ وضو کروں سو میں نے دریا کی طرف رخ کیا پھر وضو کر کے اپنے باپ کی طرف چلا آیا۔ تب میں نے اپنے باپ کو کہا کہ عیسے علیہ السلام تو نازل ہو گیا اب میں کس طور سے نماز پڑھوں سو میرے باپ نے مجھے کہا کہ وہ دین اسلام پر اترا ہے ۷۲۱ اور اس کا دین کوئی الگ دین نہیں بلکہ وہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی دین رکھتا ہے۔ سو تو اُسی طرح نماز پڑھ جیسے پہلے پڑھا کرتا تھا۔ تب میں نے نماز پڑھ لی ۔ پھر میری آنکھ کھل گئی اور میں نے دل میں کہا کہ انشاء اللہ عیسی علیہ السلام میری زندگی میں اتر آئے گا اور میں اس کو اپنی آنکھ سے دیکھ لوں گا۔ از انجملہ اس عاجز کے مسیح موعود ہونے پر یہ نشان ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کی خصوصیت کے ساتھ یہ علامت ہے کہ دجال معہود کے خروج کے بعد نازل ہو کیونکہ یہ ایک واقعہ مسلمہ ہے کہ دجال معہود کے خروج کے بعد آنے والا وہی سچا مسیح ہے جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے جس کا مسلم کی حدیث میں وجہ تسمیہ مسیح ہونے کا یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ مومنوں کی شدت اور محنت اور ابتلا کا غبار جو دجال کی وجہ سے اُن کے طاری حال ہوگا اُن کے چہروں سے پونچھ دے گا یعنی دلیل اور حجت سے اُن کو غالب کر دکھائے گا۔ سو اس لئے وہ مسیح کہلائے گا کیونکہ مسح پو نچھنے کو کہتے ہیں جس سے صحیح مشتق ہے۔ اور ضرور ہے کہ وہ دجال معہود کے بعد نازل ہو ۔ سو یہ عاجز دجال معہود کے خروج کے بعد آیا ہے ۔ پس اس میں کچھ شک ۷۲۲ نہیں کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ دجال معہود یہی پادریوں اور عیسائی متکلموں کا گروہ ہے جس نے زمین کو اپنے ساحرانہ کاموں سے تہ و بالا کر دیا ہے اور جوٹھیک ٹھیک اس وقت ۔