ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 472
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۷۲ ازالہ اوہام حصہ دوم کہ یہ حرکت تو خلاف منشاء پیشگوئی ہے۔ اسی طرح ابن صیاد کی نسبت صاف طور پر وحی نہیں کھلی تھی اور آنحضرت کا اوّل اوّل یہی خیال تھا کہ ابن صیاد ہی دجال ہے مگر آخر میں یہ رائے بدل گئی تھی۔ ایسا ہی سورہ روم کی پیشگوئی کے متعلق جو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شرط لگائی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا کہ بضع کا لفظ لغت عرب میں نو برس تک اطلاق پاتا ہے اور میں بخوبی مطلع نہیں کیا گیا کہ نو برس کی حد کے اندر کس سال یہ پیشگوئی پوری ہوگی ۔ ایسا ہی وہ حدیث جس کے یہ الفاظ ہیں فذهب وهلى الى انها اليمامة او الهجر فاذا هي المدينة يثرب - صاف صاف ظاہر کر رہی ہے کہ جو کچھ آنحضرت (۲۹۰) صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اجتہاد سے پیشگوئی کا محل و مصداق سمجھا تھا وہ غلط نکلا ۔ اور حضرت مسیح کی پیشگوئیوں کا سب سے عجب تر حال ہے۔ بارہا انہوں نے کسی پیشگوئی کے معنے کچھ سمجھے اور آخر کچھ اور ہی ظہور میں آیا۔ یہودا اسکر یوطی کو ایک پیشگوئی میں بہشت کا بارھواں تخت دیا لیکن وہ بکلی بہشت سے محروم رہا۔ اور پطرس کو کبھی بہشت کی کنجیاں دیں اور کبھی اُس کو شیطان بنایا۔ اسی طرح انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کا مکاشفہ کچھ بہت صاف نہیں تھا اور کئی پیشگویاں ان کی بہ سبب غلط فہمی کے پوری نہیں ہو سکیں مگر اپنے اصلی معنوں پر پوری ہو گئیں ۔ بہر حال ان تمام باتوں سے یقینی طور پر یہ اصول قائم ہوتا ہے کہ پیشگوئیوں کی تاویل اور تعبیر میں انبیاء علیہم السلام کبھی غلطی بھی کھاتے ہیں ۔ جس قد ر الفاظ وحی کے ہوتے ہیں وہ تو بلا شبہ اول درجہ کے بچے ہوتے ہیں مگر نبیوں کی عادت ہوتی ہے کہ کبھی اجتہادی طور پر بھی اپنی طرف سے اُن کی کسی قدر تفصیل کرتے ہیں۔ اور چونکہ وہ انسان ہیں اس لئے تفسیر میں کبھی احتمال خطا کا ہوتا ہے لیکن امور دینیہ ایمانیہ میں اس خطا کی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ ان کی تبلیغ میں منجانب اللہ بڑا اہتمام ہوتا ہے اور وہ نبیوں کو عملی طور پر بھی سکھلائی جاتی ہیں چنانچہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہشت اور دوزخ بھی دکھایا گیا اور آیات متواترہ محکمہ بینہ سے